نیک بخت بیوی ہونا انسان کے لیے کتنا با برکت ہوتا ہے ؟سچا واقعہ جو آپ کو ضرور پڑھنا چاہیے

نیک بخت بیوی

اردو نیوز! حضرت شجاع کرمانیؒ کی ایک بیٹی تھی جن کا رشتہ ایک بادشاہ نے مانگا مگر انہوں نے منظور نہیں کیا۔پھر ایک غریب نیک بخت لڑکے کو اچھی طرح نماز پڑھتے دیکھ کر اس سے نکاح کر دیا۔صاحبزادی رخصت ہو کر شوہر کے گھر آئیں تو ایک سوکھی روٹی رکھی ہوئی دیکھی۔اور پوچھا’’یہ کیا ہے؟‘‘۔لڑکے نے کہا رات بچ گئی تھی روزہ کھولنے کے لیے رکھ لی تھی‘

‘۔یہ سن کر وہ الٹے پا ؤں پیچھے ہٹیں۔لڑکا بولا’’میں پہلے ہی جانتا تھا بھلا شاہ شجاع کی بیٹی میری غریبی پر کیوں راضی ہو گی؟‘ ‘۔وہ بولیں’’شاہ شجاع کی بیٹی غریبی پر ناراض نہیں ہے ۔بلکہ ناراض ہے کہ تمہیں خدا پر بھروسہ نہیں ہے اور مجھے اپنے باپ پربھی تعجب ہے کہ مجھ سے تمہارے متعلق یہ کہاکہ بڑا نیک اور پارسا نوجوان ہے۔بھلا جس کو خدا پر بھروسہ نہ ہو وہ نیک اور پارسا کیسے ہو سکتا ہے؟‘‘۔نوجوان عذر کرنے لگا تو کہا’’عذر تو میں نہیں جانتی۔گھر میں میں رہوں گی یا یہ روٹی رہے گی‘‘۔نوجوان نے فوراًوہ روٹی خیرات کر دی تب کہیں وہ چین سے گھر میں بیٹھیں۔

لڑکی کو اگر یہ باور کرا دو کہ وہ بے حد حسین ہے تو کیا ہوگ

خواہشات کا تمام بوجھ انسان کے کندھوں سے اتارنے والی صرف م وت ہے۔ شفیق الرحمن کہتے ہیں لڑکی کو کسی نہ کسی طرح یہ باور کرا دو کہ وہ بے حد حسین ہے اس کے بعد وہ آپ کے بقیہ ج ھوٹ بھی سچ مان لے گی۔ وہ ایک جسم فروش عورت تھی۔ اسے ایک مرد ملا ، جو بہت امیر کبیر تھا۔ وہ کوئی نیکی کرنا چاہتا تھا۔ بہت بڑی نیکی اس مرد نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے غلاظت سے نکالا بڑی محبت سے اس کے ساتھ شادی کی۔ عزت دی۔ گھر دیا اور پھر کچھ عرصہ بعد جب اس کا مرد کرپشن کے ال زا م میں پکڑا گیا تو وہ حوالات میں ملنے گئی اور آہستگی سے بولی ح رام ہی کھلانا تھا۔ تو میری کمائی میں کیا برائی تھی۔ کچھ فیلنگز ایسی ہوتی ہیں۔ جو صرف کسی خاص شخص کو دکھائی جاتی ہیں۔ جہاں پتہ ہوتا ہے۔ غ صہ کریں گے تو برداشت کیاجائے گا۔ ضد کریں گے تو مانی جائے گی۔ روئیں گے توچپ کروا یا جائے گا۔ پیار مانگیں تو بے تحاشا ملے گا۔

آپ کا چپ ہونا خود اپنے آپ سمجھاجائےگا۔ آپ کوبتا نا نہیں پڑ ے گا۔اور جن رشتوں میں صرف چہرے پر مسکراہٹ ہو، کوئی ضد ، غ صہ ، لڑائی نہ ہو وہ رشتے اچھے تو ہوتے ہیں ۔ پر خاص نہیں اور وہ خاص رشتہ کسی ایک شخص کیساتھ ہی ہوسکتا ہے۔ جذبات وہاں دکھائے جاتے ہیں جہاں فرق پڑتا ہو کسی کو۔ کیا ساری لڑکیاں اتنی بے وقوف ہوتی ہیں۔ کہ فون پر کسی لڑ کے سے جس کا ان سے کوئی تعلق نہیں ہوتا، بات کرنےسے ہی محبت میں مبتلا ہوجاتی ہیں؟ کیا ساری لڑکیاں اتنی کم عقل ہوتی ہیں کہ وہ لڑکوں کی نیچر کو نہیں سمجھ پا تیں؟ فون یا انٹرنیٹ پر لڑکیوں کےساتھ ٹائم پاس کرنا تو لڑکوں کی ہابی ہوا کرتی ہے۔ پھر لڑکیاں کیوں جذباتی ہوجاتی ہیں؟ کیوں لڑکوں سے امیدیں وابستہ کر لیتی ہیں ؟ کیوں یہ سمجھنے لگتی ہیں ۔ کہ لڑکے ان کی طرح بے وقوف اور اسٹوپڈہیں جو محض ان کی آوازوں سے ہی عشق میں مبتلا ہوں گے ۔

گلاب آنکھیں ، شراب آنکھیں یہی تو لاجوا ب آنکھیں انہیں میں الفت، انہیں میں نف رت، ثواب آنکھیں ، ع ذاب آنکھیں۔ کبھی نظر میں بلاکی شوخی کبھی سراپا حجاب آنکھیں کبھی چھپاتی ہیں۔ راز دل کے کبھی ہیں دل کی کتا ب آنکھیں۔ کسی نے دیکھی تو جھیل جیسی کسی نےپائیں سراب آنکھیں۔ وہ آئے تو لوگ مجھ سے بولے حضور ! آنکھیں جناب آنکھیں۔ عجب تھا گفتگو کا عالم ، سوال کوئی جواب آنکھیں۔ ہزاروں ان پر ق تل ہوئے ہیں خد ا کےبندے ، سنبھال آنکھیں۔ تم جو عورت ذات ٹھہری تمہیں یہ زیب دیتا ہے کہ دنیا ستائے تو عزت پر حرف آئےتو تیری سیر ت بری کہہ کر تجھے کوئی رلائے تو محبت نا م کا

Leave a Comment