جب سے یہ وظیفہ رسول پاک ﷺ نے بتا یا ہے میں یہ رات کو پڑھ کر سوتا ہوں

اردو نیوز! آج میں اپنے دوستوں کو اپنی بہنوں کو اپنے بھائیوں کو ایک ایسا وظیفہ بتانے جا رہا ہوں کہ جو بہت ہی زیادہ پاور والا ہے بہت ہی طاقت رکھتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اس وظیفے کو مولا ِ کا ئنات حضرت علی ؑ رات کو سونے سے پہلے پڑھا کر تے تھے اور اس وظیفے میں اتنی طاقت اور فضیلت رکھی گئی ہے کہ جو کوئی بھی پڑھ لیتا ہے اور اس کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیتا ہے۔ تو وہ کبھی رزق کی کمی کا شکار نہیں رہتا۔

کبھی اس کی صحت کمزور نہیں پڑتی اور کبھی وہ زندگی میں دنیاوی معا ملات کی وجہ سے پریشان نہیں ہو تا حضرت امام علی ؑ سے سوال کیا گیا کہ رزق سے مراد ہے تو مولا ِ کائنات نے جواب دیا رزق کی تین سو تیراں قسمیں ہیں جن میں سے سب سے کم تر وہ قسم ہے جو تم منہ میں ڈالتے ہو اور حیرت والی بات ہے کہ دنیا دار اسی رزق پر مرے جا رہے ہیں. اسی رزق کی وجہ سے اللہ کو بھول بیٹھے ہیں تو سوالی نے سوال کیا مولا علی ؑ سے کہ حیرت ہے کہ میں تو آ ج تک اسے رزق ہی سمجھ بیٹھا تھا اسے ہی سب کچھ سمجھ بیٹھا تھا تو پیارے علی ؑ نے فر مایا سب سے اعلیٰ کا جو رزق ہے وہ رزق ہے معرفتِ الٰہی ۔ معرفت ِ الٰہی تین سو تیرہ قسموں میں سے سب سے پہلے نمبر پر رزق ہے جس کے بارے میں فر ما یا ۔

لیکن دوستو معرفت ِ الٰہی تو دور کی بات ہے ہم تو پانچ وقت کی نماز ہی ادا نہیں کر تے۔ جب آپ ﷺ کے گھر والوں پر تنگی ہو تی تو آپ ان کو نماز کا حکم فر ما تے اللہ تعالیٰ قرآنِ پاک میں فر ما تا جو ہمارے ذکر سے منہ موڑے گا تو اس کو بڑی تنگ زندگی ملے گی اس سے پتہ چلا کہ جو لوگ ذکر کر یں گے اللہ کو یاد کر یں گے ان سے رزق کی تنگی دور ہو جا ئے گی. نماز ہی ایک ایسی چیز ہے جو ہمیں کا میاب بناتی ہے جو ہمارے بگڑے ہوئے کاموں کو سنوار دیتی ہے جو ہمارے رزق میں ترقی پیدا فر ما تی ہے خاص کر فجر کی نماز کیونکہ فجر کی نماز کے بارے میں احادیثِ مبارکہ میں بھی آیا ہے۔مو لا علی ؑ رات کو سونے سے پہلے چاروں قل کی تلا و ت کیا کر تے تھے

اور آیت الکرسی کی تلاو ت کیا کر تے تھے ۔ ا ور اللہ سے یہ سب پڑھ کر اللہ سے دعا مانگا کر تے تھے تو اللہ پاک نے ان کے رزق میں کبھی تنگی نہیں کی اور جیسا کہ آپ بھی جانتے ہیں کہ سورۃ اخلاص جو ہے اس کے پڑھنے سے رزق میں ویسے بھی تنگی واقع نہیں ہو تی۔

Leave a Comment

error: Content is protected !!