حضرت یعقوب علیہ السلام کی یہ خاص دعا صرف گیارہ بار پڑھ لو،دولت کا ایسا طوفان آئے گا

اردو نیوز! انسان دعا کرنے سے پہلے یقین رکھے کہ خداوند متعال ہر چیز پر قادر ہے، ہماری کسی بھی حاجت کو پورا کرنا اس کے لیے ناممکن نہیں ہے۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ادْعُوا اَللَّهَ وَ أَنْتُمْ مُوقِنُونَ بِالْإِجَابَةِ خدا سے دعا کریں درحالانکہ آپ کو دعا کے قبول ہونے پر یقین ہو۔ یعنی اس یقین کے ساتھ دعا کریں کہ خداوند متعال ہماری دعا کو قبول کرے گا۔

اس شرط کی دلیل یہ ہے کہ دعا کی قبولیت کے چند مراتب ہیں بسا اوقات خداوند متعال ہماری دعا کو قبول کر لیتا ہے، لیکن ہمیں خبر نہیں ہوتی، اس لیے کہ ہم تمام امور کے مصالح اور مفاسد سے آشنا نہیں ہوتے اور دعا خود خداوند متعال کی عبادات میں سے ایک عبادت اور خداوند متعال کے سامنے اظهار تواضع ہے۔ خداوند متعال کی رحمت واسعه کا تقاضا یہ ہے کہ اس اظہار تواضع اور عبادت کا اجر ملے، لہٰذا اس اعتبار سے ہر دعا کی قبولیت حتمی ہے۔امام سجاد علیہ السلام نے دعائے ابو حمزہ ثمالی میں فرمایا : اللهُمَّ إِنِّی أَجِدُ سُبُلَ الْمَطَالِبِ إِلَیْکَ مُشْرَعَةً وَ مَنَاهِلَ الرَّجَاءِ إِلَیْکَ لَدَیْکَ‏ مُتْرَعَةً وَ الاسْتِعَانَةَ بِفَضْلِکَ لِمَنْ أَمَّلَکَ مُبَاحَةً وَ أَبْوَابَ الدُّعَاءِ إِلَیْکَ لِلصَّارِخِینَ مَفْتُوحَةً وَ أَعْلَمُ أَنَّکَ لِلرَّاجِی لِلرَّاجِینَ بِمَوْضِعِ إِجَابَةٍ؛ ۔ اے معبود! میں اپنے مقاصد کی راہیں تیری طرف کھلی ہوئی پاتا ہوں

اور امیدوں کے چشمے تیرے ہاں بھرے پڑے ہیں ہر امید وار کے لئے تیرے فضل سے مدد چاہنا آزاد و روا ہے اور فریاد کرنے والوں کی دعاؤں کیلئے تیرے دروازے کھلے ہیں اور میں جانتا ہوں کہ تو امیدوار کی جائے قبولیت ہے۔اسی دعا میں ہی دوبارہ ارشاد فرمایا: ولیس من صفاتک ان تامر بالسؤال وتمنع العطیة؛ ۔ اے میرے سردار! یہ بات تیری شان سے بعید ہے کہ تو مانگنے کا حکم دے تو عطا نہ فرمائے۔ امام سجاد علیہ السلام کی اس پربرکت دعا کے جملات سے معلوم ہوا کہ دعا کی قبولیت حتمی ہے، البتہ قبولیت کے مراتب ہیں، ممکن ہے ہم ان تمام مراتب سے آشنا نہ ہوں۔جو بھی اپنی مالک سے کسی چیز کی حاجت رکھتا ہو، اور اسکا محتاج ہو، اسے چاہیئے کہ ایسے کاموں کو انجام نہ دے

جو اسکے مالک کی ناراضگی کا سبب بنیں. ہم چونکہ ہر ہر سانس پر اس مالک حقیقی کے محتاج ہیں، اپنی حاجات کو اس کی بارگاہِ میں پیش کرنا ہوتا ہے، لہٰذا ہمیں چاہیئے کہ ہم ایسے کام (محرمات) کو انجام نہ دیں جس کی وجہ سے ہمارا مالک حقیقی ہم سے ناراض ہو جائے، اور ہماری حاجات کو پورا نہ کرے. وہ محرمات کہ جن کی وجہ سے دعا قبول نہیں ہوتی، ان میں سے رزق حرام سے بچنے کی معصومین علیهم السلام نے بہت تاکید فرمائی ہے۔امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا: إِنَّ اَللَّهَ لاَ يُرْفَعُ إِلَيْهِ دُعَاءُ عَبْدٍ وَ فِي بَطْنِهِ حَرَامٌ خدا اس بندے کی دعا قبول نہیں کرتا جس کے شکم میں حرام ہو۔ معلوم ہوا دعا کی قبولیت کے لیے محرمات سے اجتناب ضروری ہے، اور بالخصوص رزق حرام سے اجتناب۔

ایک شخص رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: یا رسول اللہ! میں چاہتا ہوں میری دعا قبول ہو کیا کروں؟ رسول خدا صلی نے فرمایا: طَهّرْ مَأکَلَکَ وَ لا تُدْخِلْ بَطْنَکَ الْحَرَامَ ؛ اپنی روزی کو پاک رکھ، ہر گز حرام کو شکم میں داخل نہ کر۔ ایک اور مقام پر رسول اللہ نے فرمایا: مَن أحبَّ أن یُستجابَ دعاءُهُ فَلیطیِّبْ مطعَمَهُ و مکسَبَهُ؛ جو بھی چاہتا ہے کہ اس کی دعا قبول ہو، وہ اپنے کسب اور روزی کو پاک رکھے۔ اگر کوئی شخص اپنی حاجات مانگنے کے لئے دعائے یعقوب علیہ السلام کی کثرت کرے تو رزق کی آندھی و ط و ف ا ن نازل ہو گا ۔ دعائے یعقوب علیہ السلام یہ ہے حضرت جبرائیل علیہ السلام حضرت یعقوب علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پاس آئے اور کہا

حق تعالیٰ کے جناب میں تضرع و زاری کیجئے فرمایا کس طرح۔ کہا: یہ کلمات پڑھیں۔ یَاکَثِیْرَالْخَیْرِ وَ یَا دَائِمَ الْمَعْرُوْفِ۔ جب یہ کلمات حضرت یعقوب علیہ الصلوٰۃ والسلام نے پڑھے تو وحی ہوئی کہ اے یعقوب! آپ نے مجھے ایسے کلمات کے ساتھ پکارا ہے کہ اگر آپ کے دونوں بیٹے بھی ان تقال کرگئے ہوتے تو میں انہیں دوبارہ زندہ کردیتا۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Leave a Comment

error: Content is protected !!