اخروٹ کھانے سے متعلق پیارے آقاکریمﷺ نے کیوں منع فرمایا تھا؟

ڈیلی نیوز! بعض لوگ اس کا استعمال بڑے شوق سے کرتے ہیں لوگوں کی اکثریت ایسی ہے جو اخروٹ کا استعمال نہیں کرتی ہے ۔ کیونکہ وہ اخروٹ کی افادیت سے واقف نہیں ہے ۔لیکن یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ اخروٹ کو زیادہ مقدا ر میں استعمال نہیں کرنا چاہیے ۔ روزانہ کتنے اخروٹ استعمال کرنا صحت کیلئے مفید ہے ۔ اخروٹ کے بارے میں ہمارے پیارے نبیﷺ نے کیا ارشاد فرما ہے ۔

پہلے آپ کو اخروٹ کی افادیت کے بارے میں بتاتے ہیں۔ اخروٹ میں ایسے پروٹین وٹامنز منرلز اور فیٹس ہوتے ہیں جو جسم میں کلیسٹرول لیول کو کم رکھنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں اس سے دل کے دورہ کاخطرہ بھی کم ہوجاتا ہے ۔ زیادہ مقدار میں اخروٹ کھانے کے نتیجے میں بدہضمی جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔ ایک دن سات اخروٹ سے زیادہ کھانے سے گریز کرنا چاہیے ۔ کیونکہ اتنی مقدار کھانا صحت کو فائدہ پہنچانے کیلئے کافی ہے مگر اس سے زیادہ کھانے کے نتیجے فائدہ کے بجائے نقصان ہوسکتا ہے ۔روزانہ دس گرام یا سات اخروٹ کھانا سانس کے امراض دماغی تنزلی اور کینسر سے تحفظ فراہم کرسکتے ہیں۔ روزانہ ایک اخروٹ بھی کھا لینا فائدے سے خالی نہیں ہے ۔ ماہرین کا کہنا روزانہ آدھا کپ کو اخروٹ کھانا نظام ہاضمہ کو بہتر بناتا ہے

جس کیوجہ اس کوکھانے سے بروبائیوٹیک بیکٹریا کی سطح میں اضافہ ہوتا ہے ۔ جبکہ یہ دل اور کینسر جیسے امراض کے خطرہ کم کرتا ہے ۔ معدہ کی صحت مجموعی جسمانی صحت پر اثرانداز ہوتی ہیں۔ جبکہ دل اور دماغ کی صحت کیلئے فائدہ مند ہے ۔ایک تحقیق میں بات سامنے آئی تھی کہ لڑکپن اومیگا فیٹی ایسڈ کی کمی بچوں ذہنی بیچینی کا شکار بناتی ہے ۔ماہرین کے مطابق اخروٹ فیٹی ایسڈ کی مقدار زیادہ ہوتی جبکہ کیلوریز کے حوالے سے بھی بہترہے ۔اسی طرح امریکن ایسوسی ایشن کینسر ریسرچ کی تحقیق میں بتایا گیا کہ روزانہ اخروٹ کھانے کی عادت خواتین میں بریسٹ کینسر سے بچاتی ہے ۔ روایت میں آتا ہے کہ آپﷺ نے فرمایا پنیر بھی ایک مرض ہے اور اخروٹ بھی ایک مرض ہے لیکن

اگر دونوں کھا لیا جائے تو پیٹ میں جاکر شفاء بن جاتے ہیں۔ اس بارے میں تشریح یہ بیان کی جاتی ہے پنیر کی تاثیر سردتر ہوتی ہے جبکہ اخروٹ کا مزاج گرم ہوتا ہے جب ان کو ملا کر کھایا جاتا ہے تو یہ فائدہ مند ہوجاتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ماہرین کی بھی یہی رائے ہے کہ اخروٹ کو کسی سرد مزاج چیز کیساتھ ملا کر کھانا چاہیے ۔

Leave a Comment

error: Content is protected !!