قرآن پاک کی یہ 2 آیتیں یاد کرلیں،اللہ پاک کے کرم سے رزق کی تنگی فوراََختم ہوجائے گی

ڈیلی نیوز! سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ، کہا کرتے تھے کہ جس کی سمجھ میں صرف دو آیتیں آجائیں اس کی ساری پریشانیاں ختم ہوجائیں گی۔آج کی اس ویڈیو میں ان ہی دو آیتوں کے بارے میں تفصیلاً بتاؤں گا۔یہ بڑی عظیم آیتیں ہیں اور بڑی مجرب ہیں۔ یہ قرآنی آیتیں ہماری روحانی و جسمانی تسکین اور شفا کا باعث ہیں۔ اس میں پورا نظام حیات عطاکیا گیا ہے جس پر عمل پیراہو کر انسانیت اپنا کھویا ہوا وقار اور گمشدہ متاع عزیز یعنی جنت بھی حاصل کر سکتی

ہے۔آپ نے بس یہ دو آیتیں یاد رکھنا ہیں اور کبھی پریشان نہیں ہونا۔ویسے تو قرآن کے ہر ہر لفظ میں تاثیر ہے لیکن ان دو آیتوں کے بارے میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خصوصی طورپر فرمایاکہ اپنی زندگی میں ان دو آیتوں کو شامل کریں اور زندگی کے مسائل اللہ پاک سے حل کروا لیں۔ یہ دوآیتیں راہِ نجات ہیں اورہمارے تمام دکھوں کا مداوا بھی ہے۔ اللہ ارشاد فرماتاہےکہ ہم قرآن کے ذریعے سے وہ چیز نازل کرتے ہیں جو مومنوں کے لئے شفا او ررحمت ہے۔ لہذا ان دوآیتوں میں شفا بھی ہے دوا بھی ہے اور دعا بھی ھے۔ رحمت بھی ہے اور برکت بھی۔دوستو یہ بات یاد رکھیں کہ ہم تمام وظیفے انسانیت کی فلاح کے لئےاپلوڈ کرتے ہیں اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کو اس ویڈیو کابھی پورا فائدہ ہوتو

اس دلچسپ ویڈیو کوآخرتک ضرور دیکھئے گاتاکہ آپ کی بہتر راہنمائی ہو سکے۔ ناظرین کرام۔۔۔۔۔۔اللہ پاک نے انسان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے اور یہ اللہ پاک کو بھی پتہ ہے کہ انسان کو کب دینا ہے کتنا دینا ہے۔ اور کیا دینا ہےمثلاً اگر ایک آدمی اللہ پاک سے گاڑی مانگ رہا ہے اور اس کو گاڑی نہیں مل رہی۔تو اس میں اللہ پاک کی حکمت ہے کہ اللہ پاک اگر اس کو گاڑی دے دیں اور اس کے مقدر میں حادثہ لکھا ہو، اللہ پاک تو اس کو اس حادثے سے بچانا چاہتےہیں۔بلکہ نبی اکرمﷺ نے فرمایاکہ اللہ تعالیٰ نے مخلوقات کی مقداریں اور تقدیریں لکھ دی تھیں آسمانوں اور زمین کی تخلیق سے پچاس ہزار سال قبل۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کا اندازہ ہزاروں سال پہلے مقرر کر دیا تھا۔ہر چیز اپنی حدود میں اپنا کام سر انجام دے رہی ہے۔

دنیا کی ہر چیز اللہ کے مستحکم قانون کے تحت چل رہی ہے۔چاند، سورج، ستارے، سیارے اسی ایک انداز کے مطابق چل رہے ہیں۔ زمین تین سو پینسٹھ دن میں سورج کی گردش پوری کرتی ہے اور چوبیس گھنٹے میں اپنی دھوری پر گھوم جاتی ہے اور ایک چکر پورا کرتی ہے۔ جس سے رات اور دن کا چکر چلتا رہتا ہے۔ سورج اپنے متعین وقت پر طلوع ہوتا ہے اور اپنے متعین وقت پر ہی غروب ہو جاتا ہے۔ اس میں وہ ایک سیکنڈ کا بھی انحراف نہیں کر سکتا ہے اور اربوں سالوں سے یہ نظام بڑی صحت کے ساتھ چل رہا ہے اور قیامت تک چلتا رہے گا۔ اسی طرح تمام ستارے اور سیارے اپنے اپنے مدار میں گردش کر رہے ہیں اور پورا نظام بڑی خیر و خوبی سے چل رہا ہے۔اور یہ سب رب کے حکم سے ہے

اور جو اپنے رب سے بات چیت کرنا چاہے تو حضور ﷺ نے فرمایا! اسے چاہیے کہ قرآن مجید پڑھے۔ لہذا آپ سب نے حضرت عمر کی بتائی ہوئی صرف دو آیتیں روزانہ سات مرتبہ پڑھ کر اللہ سے بات کرنی ہےاور اللہ سے اپنی حاجت طلب کرنی ہے۔ پہلی آیت۔۔۔۔قَدْ جَعَلَ اللّٰهُ لِكُلِّ شَیْءٍ قَدْرًا۔۔۔دوسری آیت۔۔۔۔اِنَّا كُلَّ شَىْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَر۔۔۔پہلی آیت سورت طلاق آیت نمبر تین کا آخری حصہ ہے ۔ اوردوسری آیت سورت قمر آیت نمبر انچاس کاحصہ ھے۔ ان دونوں آیتوں کو صرف سات مرتبہ روزانہ کسی بھی وقت پڑھ لیں۔اس عمل سےانشاء اللہ زندگی کے بے شمار مسائل اللہ پاک حل فرمائیں گے خصوصاً رزق روزگار جیسے مسائل سے نجات مل جائے گی اوراللہ آپ کو وہاں سے روزی دے گا جہاں آپ کا گمان نہ ہو اور جو اللہ پر بھروسہ کرے تو وہ اسے کافی ہے۔

بےشک اللہ اپنا کام پورا کرنے والا ہے بےشک اللہ نے ہر چیز کا ایک اندازہ رکھا ہے۔یہ بات تو سب جانتےہیں کہ انسان کی زندگی میں اتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے اس کو خوشی ملتی ہے تو کبھی غم کا سامنا کرنا پڑتا ہے کبھی اس کی صحت اچھی ہوتی ہے تو کبھی بیماریوں نے گھیر رکھا ہوتا ہے کبھی وافر مقدار میں فرق ہوتا ہے پیسوں کی ریلوے ہوتی ہے کبھی ایک وقت کے کھانے کو بھی ہوتا کبھی وسائل تو کبھی مسائل یہ تمام باتیں انسان کی زندگی کا حصہ ہے اور مرتے دم تک یہ چلتے رہتے ہیں۔ لیکن اصل کمال تو یہ ہے کہ انسان ہر حالت میں اللہ کا شکر ادا کرے اور اس کی طرف سے کسی بھی بھیجی جانے والی حالت میں خوش رہے ۔یاد رکھیے! دنیا کی مختصر زندگی بہر صورت گزرہی جائے گی، لیکن اگریہ زندگی رب کی رضا کے مطابق

گزری تو دنیا و آخرت دونوں کی کامیابی ہے ‘وگرنہ من چاہی زندگی یا اللہ کی بغاوت و نافرمانی ‘قرآ ن کی تکفیر و تکذیب میں گزری تو ایسی زندگی دنیاوی لحاظ سے شاید کامیاب ہوجائے ،لیکن ابدی زندگی جہنم کی نذر ہو کر نقصان کا باعث ثابت ہو گی۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس سے محفوط و مامون رکھے۔ قرآن مجید سے تعلق مضبوط سے مضبوط تر رکھنا مؤمن کا کام ہے۔ یہ نازل ہی اس لئے ہوا ہے کہ ہم اپنا تزکیہ کر لیں اور اپنے مربی و آقا ‘ اللہ رب العالمین کے پسندیدہ بندے بن جائیں اوریہ قرآن معمولی چیز نہیں کہ ہم اسے محض ایک کتاب سمجھیں بلکہ اس میں ہمارے لئے دنیا و آخرت کی کامرانیوں کا مکمل لائحہ عمل موجود ہے ۔ اس کے علاوہ قرآن دلوں کے زنگ دور کرکے صاف شفا ف بناتا ہے۔

سرورِ کائناتﷺ کا ارشاد عالی ہے: دلوں کو زنگ لگ جاتا ہے جس طرح لوہے کو پانی لگ جانے سے زنگ لگ جاتا ہے۔ لوگوں نے کہا یارسول اللہﷺ، پھر انہیں کس طرح صا ف کیاجائے؟آپﷺ نے فرمایا ، موت کو زیادہ یاد کیا کرو اور قرآن مجید کو بہت پڑھا کرو۔ ناظرین کرام۔۔قرآن مجید سراسر خیر و برکت اورفوز و فلاح او رکامیابیوں و کامرانیوں کا نشان امتیاز ہے۔ اس پر ایمان لانا اس کی تلاوت کرنا اور اس کے احکام پر عمل پیر اہونا اور صاحب قرآن ‘ پیغمبر ﷺ کی لائی ہوئی شریعت یعنی قرآن و حدیث کی اتباع و فرمانبرداری کرنا دنیا و آخرت کی بھلائیوں اورنجات کا ذریعہ ہے۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں صحیح معنوں میں قرآن کا فہم عطا فرمائے ،ہمارے عقائد و اعمال کی اصلاح فرما دے

اورہماری زندگیوں میں قرآن کو نافذ فرما دے۔ ہماری لغزشوں اور خطائوں سے درگزر فرمائے ۔ قرآن و صاحب قرآنﷺ کی سچی فرمانبرداری کے ذریعے اپنی رضا کا حصول آسان فرمادے۔(آمین یا ربّ العالمین)۔امید کرتا ہوں ویڈیو آپ دوستوں کو پسند آئی ہوگی۔ ویڈیو پسند آئے تو لائک اور شیئر ضرور کر دیجئے گا کیونکہ مخلوق کی خدمت کا جذبہ آپکی بگڑی بنا سکتا ہے، اور آنے والی نئی ویڈیوز کے لیے ہمارے چینل کو سبسکرائب کر دیں اور ساتھ میں موجود گھنٹی کے بٹن کو ضرور دبا دیں تاکہ ہماری ہر نئی آنے والی ویڈیوسب سے پہلے آپ تک پہنچے ۔ مجھے دیجئے اجازت ۔ سانسوں نے وفا کی تواگلی بار ایک اور دلچسپ ویڈیو لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوں گا تب تک کے لئے خدا حافظ۔ اللہ پاک آپ سب کا حافظ و نگہبان ہو۔

Leave a Comment

error: Content is protected !!