تین آدمی ایسے ہیں جن کے فرض و نفل اللہ تعالیٰ قبول نہیں کر ے گا،جانیے ایسے کون سے تین لوگ ہیں

ڈیلی نیوز! حضرت ابو ہرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فر ما یا: ملک الموت ایک راستے میں آیا۔ اور ایک سند میں یہ الفاظ ہیں۔ پہلے ملک الموت سامنے آ یا کر تا تھا جب مو سی ٰ علیہ السلام کے پا س آ یا تو اس سے کہا: اپنے رب کا فیصلہ قبول کر و۔ موسی ٰ علیہ السلام نے اس کی آنکھ پر ہاتھ مار کر اسے پھوڑ دیا ملک الموت اللہ کے پاس واپس گیا اور کہا: (اے اللہ) تو نے مجھے اپنے ایک بندے کی طرف بھیجا جو م ر نا نہیں چا ہتا۔

اس نے میری آنکھ بھی پھوڑ دی ہے ( اگر تیرے یہاں اس کی عزت نہ ہو تی تو میں اس پر بہت بھاری ہو تا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی آنکھ دوبارہ ٹھیک کر دی اور فر ما یا: میرے بندے کے پاس واپس جاؤ اور اس سے پو چھو: کیا تم زندگی چاہتے ہو؟ اگر تم زندگی چاہتے ہو تو اپنا ہاتھ بیل کی پشت پر رکھو، جتنے بالوں کو تمہارا ہاتھ ڈھانپ لے تو ہر بال کے بدلے تم ایک سال زندہ رہو گے موسیٰ علیہ السلام نے کہا: ( اے میرےرب) پھر اس کے بعد کیا ہو گا؟ اللہ عزوجل نے فر ما یا: پھر تم م ر جا ؤ گے۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا: تو پھر ابھی کیوں نہیں۔ اے میرے رب مجھے ارض مقدسہ کے مقام پر م و ت دے ( ملک الموت نے انہیں ہلکا سا چھوا اور اس کی روح قبض کر لی، پھر اس کے بعد

ملک الموت لوگوں کے پاس پو شیدہ آ نے لگا) رسول اللہ ﷺ نے فر ما یا: واللہ اگر میں اس کے پاس ہو تا تو تمہیں اس کی ق ب ر دکھا تا سرخ ٹیلے کے پاس راستے میں اور ایک روایت میں ہے۔ کہ : سرخ ٹیلے کے نیچے حضرت ابو اما مہ رضی اللہ عنہ سے مر فوعا مروی ہے: تین آدمی ایسے ہیں جن کے فرض و نفل اللہ تعالیٰ قبول نہیں کر ے گا: (والدین کا ) نا فر مان، احسان جتلانے والا، تقدیر کو جھٹلانے والا۔ امت پر رسول اللہ کے حقوق میں ایک اہم حق آپ سے محبت کرنا ہے اور ایسی محبت مطلوب ہے جو مال و دولت سے، آل اولاد سے بلکہ خود اپنی جان سے بھی بڑھ کر ہو۔ یہ کمال ایمان کی لازمی شرط ہے۔ آدمی اس وقت تک کامل مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس کے نزدیک رسول کریم کی ذات گرامی ماں باپ سے،

بیوی بچوں سے اور خود اپنی جان سے بھی بڑھ کر محبوب نہ بن جائے۔ یہ حبِ نبویؐ دین کی بنیاد اور اس کے فرائض میں سے ایک اہم فریضہ ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آپ کہہ دیجئے کہ اگر تمہارے باپ اور تمہارے لڑکے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہارے کنبے قبیلے اور تمہارے کمائے ہوئے مال اور وہ تجارت جس کی کمی سے تم ڈرتے ہو اور وہ حویلیاں جسے تم پسند کرتے ہو اگر یہ تمہیں اللہ سے اور اس کے رسول() سے اور اس کی راہ کے جہاد سے بھی زیادہ عزیز ہیں تو تم انتظار کرو کہ اللہ تعالیٰ اپنا عذاب لے آئے، اللہ تعالیٰ فاسقوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ بیٹے کو خوشگوار ازدواجی زندگی کیلئے دس قیمتی نصیحتیں امام احمد ابن حنبل ؒ نے اپنے صاحب زادے کو شادی کی رات ۱۰ نصیحتیں فرمائیں‘ہر شادی شدہ مرد کو چاہیے کہ

انکو غور سے پڑھے اور اپنی زندگی میں عملی طور پر اختیار کرے۔امام احمد بن حنبل ؒ نے فرمایا‘میرے بیٹے، تم گھر کا سکون حاصل نہیں کرسکتے جب تک کہ اپنی بیوی کے معاملے میں ان دس عادتوں کو نہ اپناؤلہٰذا ان کو غور سے سنو اور عمل کا ارادہ کرو‘پہلی دو تو یہ کہ عورتیں تمہاری توجہ چاہتی ہیں اورچاہتی ہیں کہ تم ان سے واضح الفاظ میں محبت کا اظہار کرتے رہولہٰذا وقتاً فوقتاً اپنی بیوی کو اپنی محبت کا احساس دلاتے رہو اور واضح الفاظ میں اسکو بتاؤ کہ وہ تمہارے لئے کس قدر اہم اور محبوب ہے(اس گمان میں نہ رہو کہ وہ خود سمجھ جائے گی‘ رشتوں کو اظہار کی ضرورت ہمیشہکی ضرورت ہمیشہ رہتی ہے)یاد رکھو اگر تم نے اس اظہار میں کنجوسی سے کام لیا تو تم دونوں کے درمیان ایک تلخ دراڑ آجائے گی

جو وقت کے ساتھ بڑھتی رہے گی اور محبت کو ختم کردے گی۔تین‘ عورتوں کو سخت مزاج اور ضرورت سے زیادہ محتاط مردوں سے کوفت ہوتی ہے لیکن وہ نرم مزاج مرد کی نرمی کا بیجا فائدہ اٹھانا بھی جانتی ہیں لہٰذا ان دونوں صفات میں اعتدال سے کام لینا تاکہ گھر میں توازن قائم رہے اور تم دونوں کو ذہنی سکون حاصل ہو‘چار عورتیں اپنے شوہر سے وہی توقع رکھتی ہیں جو شوہر اپنی بیوی سے رکھتا ہے یعنی عزت، محبت بھری باتیں، ظاہری جمال، صاف ستھرا لباس اور خوشبودار جسم لہٰذا ہمیشہ اسکا خیال رکھنا‘پانچ‘ یاد رکھو گھر کی چار دیواری عورت کی سلطنت ہے، جب وہ وہاں ہوتی ہے تو گویا اپنی مملکت کے تخت پر بیٹھی ہوتی ہے‘ اسکی اس سلطنت میں بیجا مداخلت ہرگز نہ کرنا اور اسکا تخت چھیننے کی کوشش نہ کرنا‘

جس حد تک ممکن ہو گھر کے معاملات اسکے سپرد کرنا اور اس میںتصرف کی اسکو آزادی دینا‘چھ‘ ہر بیوی اپنے شوہر سے محبت کرنا چاہتی ہےلیکن یاد رکھو اسکے اپنے ماں باپ بہن بھائی اور دیگر گھر والے بھی ہیں جن سے وہ لاتعلق نہیں ہو سکتی اور نہ ہی اس سے ایسی توقع جائز ہے لہٰذا کبھی بھی اپنے اور اسکے گھر والوں کے درمیان مقابلے کی صورت پیدا نہ ہونے دینا کیونکہ اگر اس نے مجبوراً تمہاری خاطر اپنے گھر والوں کو چھوڑ بھی دیا تب بھی وہ بے چین رہے گی اور یہ بے چینی بالآخر تم سے اسے دور کردے گی‘سات‘ بلاشبہ عورت ٹیڑھی پسلی سے پیدا کی گئی ہے اور اسی میں اسکا حسن بھی ہے‘یہ ہرگز کوئی نقص نہیں وہ ایسے ہی اچھی لگتی ہے جس طرح بھنویں گولائی میں خوبصورت معلوم ہوتی ہیں لہٰذا

اسکے ٹیڑھے پن سے فائدہ اٹھاؤ اور اسکے اس حسن سے لطف اندوز ہواگر کبھی اسکی کوئی بات ناگوار بھی لگے تو اسکے ساتھ سختی اور تلخی سے اسکو سیدھا کرنے کی کوشش نہ کرو ورنہ وہ ٹوٹ جائے گی” اور اسکا ٹوٹنا بالآخر طلاق تک نوبت لے جائے گامگر اسکے ساتھ ساتھ ایسا بھی نہ کرنا کہ اسکی ہر غلط اور بیجا بات مانتے ہی چلے جاؤ ورنہ وہ مغرور ہو جائے گی جو اسکے اپنے ہی لئے نقصان دہ ہے لہٰذا معتدل مزاج رہنا اور حکمت سے معاملات کو چلانا‘آٹھ‘ شوہر کی ناقدری اور ناشکری اکثر عورتوں کی فطرت میں ہوتی ہے اگر ساری عمر بھی اس پر نوازشیں کرتے رہو لیکن کبھی کوئی کمی رہ گئی تو وہ یہی کہے گی تم نے میری کونسی بات سنی ہےآج تک لہٰذا اسکی اس فطرت سے زیادہ پریشان مت ہونا

اور نہ ہی اسکی وجہ سے اس سے محبت میں کمی کرنایہ ایک چھوٹا سا عیب ہے اس کے اندرلیکن اسکے مقابلے میں اسکے اندر بے شمار خوبیاں بھی ہیں‘بس تم ان پر نظر رکھنا اور اللہ کی بندی سمجھ کر اس سے محبت کرتے رہنا اور حقوق ادا کرتے رہنا‘نو‘ ہر عورت پر جسمانی کمزوری کے کچھ ایام آتے ہیں۔ ان ایام میں اللہ تعالیٰ نے بھی اسکو عبادات میں چھوٹ دی ہے، اسکی نمازیں معاف کردی ہیں اور اسکو روزوں میں اس وقت تک تاخیر کی اجازت دی ہے جب تک وہ دوبارہ صحت یاب نہ ہو جائے‘بس ان ایام میں تم اسکے ساتھ ویسے ہی مہربان رہنا جیسے اللہ تعالیٰ نے اس پر مہربانی کی ہے جس طرح اللہ نے اس پر سے عبادات ہٹالیں ویسے ہی تم بھی ان ایام میں اسکی کمزوری کا لحاظ رکھتے ہوئے

اسکی ذمہ داریوں میں کمی کردو، اسکے کام کاج میں مدد کرادو اور اس کے لئے سہولت پیدا کرو۔ دس‘آخر میں بس یہ یاد رکھو کہ تمہاری بیوی تمہارے پاس ایک قیدی ہے جسکے بارے میں اللہ تعالیٰ تم سے سوال کرے گا۔ بس اسکے ساتھ انتہائی رحم و کرم کا معاملہ کرنا

Leave a Comment

error: Content is protected !!