عید کی چھٹیوں پر ملک بھر میں موسم کیسا رہے گا ، محکمہ موسمیات نے پیشگی اطلاع دیدی

محکمہ موسمیات

ملک میں عید الفطر کی تعطیلات کے دوران آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی کی ہے ۔محکمہ موسمیات کے مطابق عید کی تعطیلات کے دوران گرمی کی حالیہ لہر میں کمی کا امکان ہے اور یکم سے تین مئی کے دوران بلوچستان سندھ و پنجاب کے اکثر علاقوں میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔

یکم سے دو مئی کے دوران کراچی سمیت سندھ کے اکثر علاقوں میں گرد آلود ہوائیں و آندھی چلنے کی بھی توقع ہے، دو سے چار مئی کے دوران اسلام آباد سمیت پنجاب کے کئی علاقوں میں گرد آلود ہواؤں، آندھی و گرج چمک کے ساتھ ہلکی بارش کا امکان ہے جبکہ یکم سے پانچ مئی کے دوران خیبر پختونخوا و کشمیر گلگت بلتستان میں تیز ہواؤں و گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق دو سے پانچ مئی کے دوران گلگت بلتستان میں لینڈ  سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔دوسری جانب موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے

دنیا کے 135 ممالک پر کی گئی ایک تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی سے 2050 تک عالمی سطح پر سالانہ اقتصادی پیداوار میں چار فیصد کمی ہونے کا امکان ہے جس سے دنیا کے بہت غریب ممالک کو غیر متناسب طور پر سخت نقصان پہنچ سکتی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق ممالک کو ان کی معیشتوں کی صحت کی بنیاد پر کریڈٹ اسکور دے کر درجہ بندی کرنے والی کمپنی پی اینڈ ایس گلوبل نے ایک رپورٹ شائع کی جس میں سمندر کی سطح میں اضافے کے ممکنہ اثرات، گرمی کی لہر میں

باقاعدہ اضافہ، خشک سالی اور طوفانوں کا جائزہ لیا گیا۔ایک ایسے بنیادی منظر نامے میں جہاں دنیا کی بیشتر حکومتیں سائنسدانوں میں آر سی پی 4.5 کے نام سے جانی جانے والی بڑے پیمانے پر موسمیاتی تبدیلی اور نئی حکمت عملیوں سے کنارہ کشی اختیار کر رہی ہیں، کم اور کم درمیانی آمدنی والے ممالک میں امیر ممالک کے مقابلے میں اوسطا 3.6 گنا زیادہ مجموعی گھریلو پیداوار کے نقصانات ہونے کا امکان ہے۔بنگلہ دیش، بھارت، پاکستان اور سری لنکا میں لگنے والی جنگلات کی آگ، سیلاب، بڑے طوفانوں اور پانی کی قلت سے مراد یہ ہے کہ جنوبی ایشیا میں جی ڈی پی 10 سے 18 فیصد خطرے میں ہے جو شمالی امریکا کے مقابلے میں تقریبا تین گنا ہے اور سب سے کم متاثرہ خطے یورپ سے 10 گنا زیادہ ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ وسط ایشیا، مشرق وسطی اور شمالی افریقہ اور سب صحارا افریقہ کے خطوں کو بھی بڑے نقصانات کا سامنا ہے، مشرقی ایشیا اور بحر الکاہل کے ممالک کو سب صحارا افریقہ کی طرح خطرات کی سطح کا سامنا ہے لیکن بنیادی طور پر ان کو گرمی کی لہر اور خشک سالی کے بجائے طوفان اور سیلاب کی وجہ سے وہ خطرات لاحق ہیں۔ خط استوا یا چھوٹے جزیروں کے آس پاس کے ممالک زیادہ خطرے میں ہوتے ہیں جبکہ زراعت جیسے شعبوں پر زیادہ انحصار کرنے والی معیشتیں بڑے سروس سیکٹر والے ممالک کے مقابلے زیادہ متاثر ہوتی ہیں۔زیادہ تر ممالک کے لیے آب و ہوا کی تبدیلی سے متاثر ہونے والے نقصانات پہلے ہی بڑھ رہے ہیں،
انشورنس فرم سوئس ری کے مطابق گزشتہ 10 سالوں کے دوران صرف طوفان، جنگلات کی آگ اور سیلاب نے عالمی سطح پر جی ڈی پی کو تقریبا 0.3 فیصد نقصان پہنچایا ہے۔ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن نے بھی یہ حساب لگایا کہ اوسطا گزشتہ 50 سالوں سے دنیا میں ہر روز کہیں نہ کہیں موسم، آب و ہوا یا پانی سے متعلق آفت آئی ہے جس سے روزانہ کی بنیاد پر 115 اموات اور 202 ملین ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہوا ہے۔

Leave a Comment