سبق آموز کہانی عالیہ میری بچپن کی دوست

بچپن کی دوست

عالیہ میری بچپن کی دوست اور کلاس فیلو تھی۔ وہ دو بھائیوں کی اکلوتی بہن تھی اس لیے وہ سب کی لاڈلی تھی اسے سب گھر والے بہت پیار کرتے تھے عالیہ ان دنوں کالج میں پڑھتی تھی جب اس کے لیے ایک اچھا رشتہ آیا اور اس کے ماں باپ نے فورا ہاں کہہ دی۔اس کی منگنی کر دی گئی

اور شادی کی تاریخ دو ماہ بعد کی رکھی گئی کیونکہ اس کے منگیر کاشف کی چھٹی فلحال کم تھی۔ابھی اس کی شادی کی تاریخ طے ہوئے دو دن ہوئے تھے کہ اس کی ماہ کی طبیعت اتنی خراب ہو گئی کہ ان کو ہسپتال داخل کروانا پڑا۔ اس کے بعد سے اس کی ماہ کی طبیعت ٹھیک ہونے کی بجائے خراب ہو تی گئی۔کاشف بھی ان کے گھر اکثر آتا رہتا تھا اس کی ماہ کی طبیعت پوچھنے۔شادی میں دو ہفتے رہ گئے تھے اور عالیہ نے شادی کی کوئی تیاری نہیں کی تھی بلکہ ہو وقت ماں کی خدمت کی اس کی عیادت کی۔اس عرصے میں کاشف کو عالیہ اور اس کے گھر والوں سے اتنا لگاؤ ہو گیا کہ جب تک وہ ان کے گھر نا آتا اس کو چین نہیں آتا تھا۔ پھر ایک دن عالیہ کی ماں کی طبیعت اتنی بگڑی کہ وہ دنیا سے رخصت ہو گئیں۔عالیہ کے لیے یہ بہت بڑا صدمہ تھا۔

ان کی شادی کی تاریخ پڑھا دی گئی۔عالیہ ماں کی موت کے صدمے سے نکل نہیں پا رہی تھی وہ اکثر بیمار رہتی تھی اور اب بہت کمزور دکھائی دیتی تھی۔کاشف ایک دن عالیہ کے والد کے پاس آیا اور کہا کہ اگر آپ اجازت دیں تو میں اپنے والدین کو شادی کی تاریخ رکھنے بھیجنا چاہتا ہوں ہو سکتا ہے ماحول بدلنے سے عالیہ سنبھل جائے۔اس کے والد مان گئے اور دونوں کی شادی ہوگئی۔کاشف بہت محبت کرنے والا اور خیال رکھنےوالا شوہرثابت ہوا۔اس نے عالیہ کو اتنی محبت دی کہ وہ جلد ہی سنبھل گئی۔دونوں کو ایک دوسرے سے مختصر عرصے میں محبت ہوگئی۔کاشف جب کام سے آتا تھا پہلے اپنے ماں باپ کے پاس کچھ دیر بیٹھتا تھا اور پھر عالیہ کے پاس جاتا تھا ایک دن وہ بہت تھکا ہوا تھا

اس لیے آتے ہی اپنے کمرے میں چلا گیا اس کے والدین کو یہ بات بری لگی تو انہوں نے کاشف سے کہا بیوی پاؤں کی جوتی ہوتی ہے اس کو سر پہ نہیں بیٹھانا چاہیئے۔بیوی کی مانو گے تو وہ تمھارے سر پر چڑھ کر ناچے گی۔کاشف پہ ان باتوں کا کائی اثر نہیں ہوتا۔ کیونکہ وہ عالیہ سے محبت کرتا تھا۔ ابھی شادی کو دو سال گزرے تھے کہ کاشف کا تبادلہ ایک دوسرے شہر میں ہو گیا۔کاشف کے تبادلے کا سن کر عالیہ بہت پریشان رہتی تھی۔کاشف کے جانے میں دو دن باقی تھی جب ایک دن کاشف نے عالیہ سے پریشان رہنے کی وجہ پوچھی تو وہ اس کے گلے لگ کر رونے لگی اور کہا میں یہاں اکیلی کیسے رہوں گی تو کاشف نے کہا پاگل رو کیوں رہی ہو میں تمہیں ساتھ لے کر جاؤں گا

میں تمھارے بغیر نہیں رہ سکتا عالیہ یہ سن کر بہت خوش ہوئی اور آخر ایک دن وہ جانے لگے اس دن کاشف کے والدین نے کہا کہ عالیہ کواپنے ساتھ نا لے کر جاؤ ہم یہاں اکیلے ہوں گے تو ہماراخیال کون رکھے گا۔وہ یہ بات کاشف سے پہلے بھی کہہ چکے تھے لیکن کاشف نے ان کی اس بات پر غور نا کیا اور عالیہ کو لے کر چلا گیا۔ عالیہ اور کاشف چھ ماں بعد کاشف کے والدین کے گھر آتے تھے عالیہ جب بھی آتی ان کی بہت خدمت کرتی تھی۔شادی کو پانچ سال گزر گئے۔ایک دن جب وہ لوگ والدین سے ملنے آئے تو کاشف کی امی نے ان کو بے اولادی کا طنعہ دیا اور کہا کہ ایک سال انتظار کرو اگر پھر بھی اولاد نا ہوئی تو ہم کاشف کی دوسری شادی کر دیں گے۔ہمارا ایک ہی بیٹا ہے ہم چاہتے ہیں ہمارے بیٹے کے بچے ہوں ہماری نسل آگے بڑھے۔

عالیہ یہ سن کر وہاں سے اٹھ کر اپنے کمرے میں آگئی۔کاشف بھی اس کے پیچھے آیا اور کہا کہ عالیہ رو نہیں امی ایسے ہی کہہ رہی تھی عالیہ کہنے لگی کہیں آپ سچ میں وسری شادی تو نہیں کر لیں گے آپ مجھے چھوڑ تو نہیں دیں گے۔تب کاشف نے کہا یہ کیسے ہوسکتا ہے میں تم سے محبت کرتا ہوں اور تمارے بغیر نہیں رہ سکتا۔عالیہ یہ سن کر خوش ہوگئی۔کاشف کے دل میں بھی ہر شخص کی طرح اولاد کی خواہش تھی اس لیے وہ بہت سے عالموں اور ڈاکٹروں کے پاس گیا لیکن کوئی حل نا نکلا۔ ایک دن عالیہ کے ابو کا فون آیا کہ اس کے بھائی کی شادی ہے اس لیے اس کو ایک ہفتہ پہلے آنا ہو گا کیونکہ ساری شاپنگ اس کو ہی کرنی ہے عالیہ نے حامی بھر لی۔اگلی صبح آفس جاتے ہوئے کاشف اس کو اپنے ابو کے گھر چھوڑ گیااور کہا کہ وہ شادی کے دن پہنچ جائے گا۔دو تین دن بعد عالیہ اپنے گھر سے کچھ سامان اٹھانے آئی تو دیکھا کہ کاشف کے والدین انہیں کی گھر پر آئے ہوئے ہیں

کاشف کا رویہ اس کو عجیب لگا لیکن اس نے کچھ نا کہا۔عالیہ نے کاشف سے کہا کہ میں نے کچھ شاپنگ کرنی ہے کاشف اس کو شاپنگ پر لے گئے وہاں کاشف نےایک سوٹ اور کچھ جیولری لی۔عالیہ خوش ہوگئی کہ یہ اس کے لیے ہے۔عالیہ نے کہا مجھے یہ سوٹ بہت پسند آیا ہے کاشف نے کہا کہ یہ سوٹ میرے ایک دوست کے لیے ہے اس کی شادی ہے وہ غریب ہے اس لیے میں نے اس سے کہا کہ میں لے آؤں گا یہ چیزیں ۔عالیہ خاموش ہوگئی عالیہ کے بھائی شادی کے دن بھی کاشف نا آیا ۔ اس کے جیٹھ اور جیٹھانی آئے ۔ عالیہ نے کاشف کا پوچھا تو انہوں نے کہا آج اس کے دوست کی شادی تھی وہ کل آئے گا۔اگلے دن عالیہ نے کاشف کو بارات میں دیکھا توعالیہ کی جان میں جان آگئی۔بارات کے بعد وہ گھر چلا گیا۔ولیمے پر پھر کاشف آیا

کچھ گھنٹے گزارے اور پھر کہا عالیہ تم ایک ہفتہ اور یہاں رہ لو پھر میں آکے تمہیں لے جاؤں گا عالیہ مان گئی۔عالیہ کے ابو کو کسی نے بتایا کہ آپ کے داماد نے اولاد کی خاطر دوسری شادی کر لی ہے ابو نے عالیہ کو اس بارے میں کچھ نہیں بتایا۔ تین دن بعد جب میں کاشف کو فون ملا رہی تھی تو میرے بھائی نے آکر مجھ سے فون لے لیا اور بتایا کہ تمھارے شوہر نے اولاد کی خاطر دوسری شادی کر لی ہے۔ عالیہ اپنے آپ میں نا رہی عالیہ کے ابو نے کہا اب فیصلہ تم نے کرنا ہے کہ تم طلاق لو گی یا اپنی سوکن کے ساتھ رہو گی۔ میں نے کہا میں کاشف کے ساتھ رہوں گی۔میں نے کاشف کو فون کیا اور پوچھا کہ کیا یہ سچ ہے جو مجھے میرے گھر والے بتا رہے ہیں تو اس نے کہا ہاں یہ سچ ہے میرے والدین نے اولاد کے لیے میری دوسری شادی کروا دی ہے لیکن فکر نا کرو

میں تمھارے ساتھ ہی رہوں گا اگلے دن وہ عالیہ کو لے آیا۔کچھ دن بعد کاشف نے اپنا تبادلہ اپنے والدین کے گھر والے شہر میں کروا دیا،عالیہ کے لیے اس نے والدین کے گھر کے ساتھ ایک گھر لے لیا۔وہ شروع میں عالیہ کے ساتھ رہتا پھر ایک دن والدین کے گھر گیا تو ایک ہفتے بعد آیا اس گھر میں اس کی دوسری بیوی رہتی تھی اب وہ دو دن عالیہ نے گھر اور ایک پفتہ والدین کے گھر رہتا تھا۔عالیہ خاموش رہتی تھی وہ جب اکیلی ہوتی روتی تھی اور سوچتی تھی کہ اولاد نا ہونا کتنا بڑا گرم ہے اور اس کی سزا صرف عورت کو کیوں ملتی ہے حالانکہ اولاد مرد کے نصیب سے ہوتی ہے۔جب کاشف اس کے گھر آتا

وہ خوش ہو جاتی اور اسے خوش رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرتی لیکن وہ پھر بھی والدین کے گھر چلا جاتا۔ ایک دن عالیہ کے بھائی کا فون آیا کہ ابو کی طبیعت خراب ہے ۔میں نے کاشف سے کہا تو وہ مجھے گھر چھوڑ آیا اور کہا کہ دو دن بعد لینے آئے گا۔دو دن بعد عالیہ نے فون کیا تواس نے کہا کہ تین دن بعد آئے گا تین دن گزر گئے اس بار عالیہ نے فون کیا تو اس کا نمبر بند تھا اس کے بعد عالیہ کو پتا چلا کہ وہ شہر چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔اب اس کا نمبر ہمیشہ بند رہتا۔عالیہ انتظار کرتی رہی لیکن وہ واپس نا آیا۔تیس سال گزر گئے اب کاشف کےدو بیٹے اور ایک بیٹی ہے اس کی فیملی پوری ہو گئی اس کے بچے جوان ہو گئے اور عالیہ آج بھی اس کا انتظار کر رہی ہے۔

Leave a Comment