اے اللہ میرا خاتمہ اچھا کرنا

اے اللہ

اﷲ تعالیٰ مجھے اور آپ سب کو اپنے فضل سے’’حسن خاتمہ‘‘ نصیب فرمائے. آج باتیں بہت سی ہیں اور دعائیں بھی. اس لئے مختصر شذرے بناتے ہیں تاکہ. یاد رکھنے میں آسانی ہو.موت کو زیادہ یاد کرورسول اﷲ نے ارشاد فرمایا: لذتوں کو ختم کرنے والی چیز﴿یعنی موت﴾ کا زیادہ تذکرہ کیا کرو.

﴿ترمذی﴾حضرت آقا کا فرمان آگیا. لبیک، لبیک. آج ہم موت کا زیادہ تذکرہ کریں گے. اپنے آقا کا حکم مانیں گے. آج بھی آئندہ بھی. خلوت میں بھی، جلوت میں بھی. ان شاء اﷲمسلمان مرواﷲ تعالیٰ نے ہمیں تاکید کے ساتھ حکم فرمایا ہے کہ. ہم مسلمان مریں.یعنی ایسی محنت، کوشش، فکر اور دعائ کریںکہ. جب موت آئے تو ہم ایمان پر ہوں. اسلام پر ہوں. اور ہمارا خاتمہ اچھا ہو جائے. ارشاد باری تعالیٰ ہے:ترجمہ: اے ایمان والو! اﷲ تعالیٰ سے ڈرو جس طرح اُس سے ڈرنے کا حق ہے اور تم صرف اسلام ہی پر مرو.﴿یعنی تمہارا خاتمہ اسلام پر ہونا چاہئے﴾﴿آل عمران ۲۰۱﴾محنت مرتے دم تک ہے

مسلمان کو عبادت کا حکم ہے. عبادت کہتے ہیں اﷲ تعالیٰ کے احکامات کو پورا کرنا. جی ہاں! سارے احکامات. عقائد بھی فرائض بھی. محنت بھی، قربانی بھی. اور اس میں کامیابی یہ ہے کہ. انسان مرتے دم تک لگا رہے. ارشاد باری تعالیٰ ہے:اور اپنے رب کی عبادت کرتے رہو یہاں تک کہ تمہاری موت آجائے.﴿الحجر ۹۹﴾اعتبار تو صرف خاتمے کا ہےبالکل واضح سمجھا دیاگیا کہ. اصل اعتبار خاتمے کا ہے. دیکھیں بخاری شریف کی یہ روایت:حضرت آقا مدنی ارشاد فرماتے ہیں:اِنَّمَا الْاَعْمَالُبِالْخَوَاتِیْم.ترجمہ: اعمال کا دارومدار تو اُن کے انجام پر ہے.﴿صحیح بخاری﴾ایک آدمی اچھے اعمال کرتے کرتے جنت کے دروازے تک جا پہنچتا ہے.

اچانک ایسا عمل کر بیٹھتا ہے کہ سیدھا جہنم میں جا گرتا ہے. اور دوسرا بُرے اعمال کرتے کرتے جہنم کے دروازے تک پہنچ جاتا ہے اور پھر. ایسا عمل کر گزرتا ہے کہ سیدھا جنت میں چلا جاتا ہے. اسی لئے جن کے دلوں میں ایمان ہوتا ہے اُن کو سب سے زیادہ فکر. ایمان پر خاتمے کی ہوتی ہے. ایک ایک گھڑی ایک ایک لمحہ وہ اسی فکر میں رہتے ہیں کہ. آخری وقت اچھا ہو. ایمان پر ہو.انبیاء علیہمالسلام کی وصیتحضرت ابراہیم علیہ السلام. اور حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنی اولاد کو کیا وصیت فرمائی؟. ہمیں بھی اس کو پڑھ سمجھ کر اپنی اولاد کے لئے ایسا ہی مستقبل ڈھونڈنا اور سوچنا چاہئے.

دیکھئے قرآن پاک. اﷲتعالیٰ کا فرمان ہے:ترجمہ: اور ابراہیم علیہ السلام اور یعقوب علیہ السلام نے اپنی اولاد کو اسی دین کی وصیت کی﴿ اور کہا﴾ اے میرے بیٹو! اﷲ تعالیٰ نے تمہارے لئے دین﴿اسلام ﴾ کو پسند فرمایا ہے اس لئے تم صرف دین اسلام ہی پر مرنا.﴿البقرہ ۲۳۱﴾یہ ہے اپنی اولاد کے لئے ایک مسلمان کی حقیقی فکر. کہ وہ دین پر رہیں اور دین پر مریں. رہائش کی فکر، کھانے کی فکر، نوکری کی فکر فضول ہے. لیجئے اب دو کام ہو گئے. اپنے حسن خاتمہ کی فکر اور محنت بھی کرنی ہے. اور اپنی اولاد کے حسن خاتمہ اور محنت کی فکر بھی کرنی ہے. وجہ یہ ہے کہ بس ایک لمحہ اچھا ہو گیا توآگے

کروڑوں اربوں سال سے بھی زیادہ مدت. یعنی ہمیشہ ہمیشہ آرام، عیش اور راحت. اور اگر ایک لمحہ بُرا ہو گیا تو آگے ہمیشہ ہمیشہ کی تکلیف، عذاب اور دردناک مشقت. ایک لمحہ کونسا ہے؟. جی ہاں! خاتمے کا لمحہ. جب روح کو جسم سے الگ کیا جاتا ہے. اور یہ لمحہ ہر جاندار پرضرور آناہے. ایک دعائ سمجھ لیں اور یاد کر لیںاوپر جو بات عرض کی. ایک لمحہ والی. اس کو رسول پاک کی سکھلائی ہوئی اس دعاء میں سمجھنے کی کوشش کریں. یہ دیکھیں حدیث شریف کی مشہور کتاب صحیح مسلم. حضور اقدس کی مبارک دعاء.اَللّٰھُمَّ اَصْلِحْ لِیْ دِیْنِیَ الَّذِیْ ہُوَ عِصْمَۃُ اَمْرِیْ وَاَصْلِحْ لِیْ دُنْیَایَ الَّتِیْ فِیْھَا مَعَاشِیْ وَاَصْلِحْ لِیْ آخِرَتِیَ الَّتِیْ فِیْھَا مَعَادِیْ، وَاجْعَلِ الْحَیَاۃَ زِیَادَۃً لِیْ فِیْ کُلِّ خَیْرٍ وَّاجْعَلِ الْمَوْتَ رَاحَۃً لِّیْ مِنْ کُلِّ شَرٍّ ﴿مسلم حدیث رقم ۰۲۷۲﴾ترجمہ: یا اﷲ! میرے اُس دین کو درست فرما دیجئے جو میرا بچاؤ ہے.

اور میری اُس دنیا کو درست کر دیجئے جس میں میرا معاش ہے، اور میری اُس آخرت کو درست فرمادیجئے جس میں مجھے لوٹ کر جانا ہے اور زندگی کو میرے لئے ہر خیر میں اضافے کا ذریعہ بنا دیجئے اور موت کو میرے لئے ہرشر سے راحت کا ذریعہ بنا دیجئے. ماشائ اﷲ!. کیسی جامع اور زبردست دعائ ہے. دین بھی سیدھا ہو جائے. دنیا بھی سیدھی ہو جائے. آخرت بھی اچھی ہو جائے. اور زندگی قیمتی بن جائے اور موت راحت بن جائے. معلوم ہوا کہ. اچھے خاتمے والی موت راحت ہی راحت ہے. اور آزادی ہی آزادی. بلکہ مزے ہی مزے. اس پر ایک واقعہ پڑھ لیں.

ایک واقعہامام غزالی (رح) نے احیائ العلوم کی چوتھی جلد میں. اچھے اور برے خاتمے پر تفصیلی بات کی ہے. اس میں وہ یہ واقعہ بھی لکھتے ہیں:’ اپنے خاتمے کے بارے میں ڈرنے والے ایک شخص نے اپنے کسی بھائی کو وصیت کی کہ جب میں مرنے لگوں میرے سرہانے بیٹھنا، اگر دیکھو کہ میرا خاتمہ توحید پر ہوا تو میرا تمام مال لے کر اس کے بادام اور شکر خرید کر شہر کے بچوں میں تقسیم کرنا اور کہنا کہ ایک شخص قید سے آزاد ہوا ہے یہ اُس کی شیرینی ہے اور اگر میرا خاتمہ توحید پر نہ ہو تو لوگوں کو خبر دینا کہ یہ شخص توحید پر نہیں مرا‘‘.الخ.﴿احیائ العلوم﴾حضرت سفیان ثوری(رح) کی موت کا وقت آیا تورونے لگے

اور بہت ڈرے ہوئے تھے لوگوں نے ان سے کہا آپ کو امید کرنی چاہئے، اﷲ تعالیٰ کی معافی آپ کے گناہوں سے بڑی ہے. حضرت سفیان(رح) نے فرمایا: میں گناہوں کی وجہ سے نہیں روتا اگر مجھے یہ معلوم ہو جائے کہ خاتمہ توحید پر ہوگا تو مجھے کچھ پرواہ نہیں اگرچہ میرے ساتھ پہاڑوں کے برابر گناہ جائیں.﴿احیائ العلوم﴾بعض صحابہ کرام سے یہ بات مروی ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ. جو شخص موت کے وقت ایمان چھن جانے سے ڈرتا ہے اس کے لئے خیر ہے. اور جو اس خوف سے بے فکر رہتا ہے اس کا ایمان چھن جانے کا خطرہ رہتا ہے. یعنی جو ڈرتے ہیں.. وہی بچتے ہیں. وجہ کیا ہے؟

صحیح بخاری(رح) میں حضرت ابن ملیکہ(رح) کا قول ہے. میں تیس صحابہ کرام سے ملا وہ سب اپنے بارے میں نفاق سے ڈرتے تھے. بُرے خاتمہ کا خوف ہمارے سب اسلاف پر طاری رہا. لوگوں نے اس پر صفحات کے صفحات لکھے ہیں. دراصل انسان کے اندر جو حالت پختہ ہوتی ہے وہ موت کے وقت ظاہر ہوجاتی ہے. عام زندگی میں تو لوگ رکھ رکھاؤ سے بہت کچھ چھپا لیتے ہیں. دوسری بات یہ کہ. شیطان اُس وقت بہت زور لگاتا ہے اور اپنے تمام لشکروں اور آلات کے ساتھ حملہ آور ہوتا ہے. اور انسان کی کمزوریوں کے راستے اُس کے حواس پر قبضہ کرتا ہے تاکہ. موت کے وقت اُسے غافل کر دے.

کسی کو مال میں، کسی کو حرص میں، کسی کوعشق میں. کسی کو اپنی عزت و شہوت میں. بس بھائیو! اور بہنو!.بڑا مشکل وقت ہوتا ہے. اﷲ تعالیٰ ہی اپنا فضل فرمائے. ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ اپنے اندر دین کو مضبوط کریں. ایمان اور تقوے کو مضبوط کریں. اور ساتھ ساتھ نہایت آہ وزاری اور اہتمام کے ساتھ حسن خاتمہ کی دعائ بھی مانگتے رہیں.عقلمند لوگ حسن خاتمہ کی دعائ مانگتے ہیں قرآن پاک کی سورۃ آل عمران میں. اﷲ تعالیٰ نے اپنے بعض بندوں کو’’اولی الالباب‘‘. کا لقب عطائ فرمایا ہے. یعنی عقل والے. جن کو اﷲ تعالیٰ عقلمند فرمائے اُن سے بڑھ کر عاقل کون ہو سکتا ہے؟

.پورا تذکرہ آپ سورۃ آل عمران کے آخری رکوع میں پڑھ لیجئے. یہاں صرف یہ عرض کرنا ہے کہ. ان عقلمندوں کی ایک صفت اور علامت یہ بھی ہے کہ. وہ حسن خاتمہ کی فکر کرتے ہیں اور اس کے لئے مسلسل دعائ مانگتے ہیں. دعائ یہ ہے.’’رَبَّنَا فَاغْفِرْلَنَا ذُنُوْبَنَا وَکَفِّرْعَنَّا سَیِّاٰتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ الْاَبْرَار‘‘ترجمہ: اے ہمارے رب!ہمارے گناہ معاف فرما، ہم سے ہماری برائیاںدور فرما اور ہم کو نیک لوگوںکے ساتھ موت دے.﴿آل عمرا۳۹۱﴾لیجئے بات بھی سمجھ آگئی. اور ایک قرآنی دعائ بھی مل گئی.اس دعائ کو یاد کر لیاجائے. توجہ سے مانگی جائے اور معمولات کا حصہ بنائی جائے.

اس میں’’استغفار‘‘ بھی ہے اور’’حسن خاتمہ‘‘ کی دعائ بھی. مقبول تائبین اور حسن خاتمہ کی فکرقصہ آپ نے بارہا سنا ہوگا. رنگ ونور میں بھی آچکا. وہ بڑے خوش نصیب جو پہلے فرعون کے جادو گر تھے.مگر اﷲ تعالیٰ کا ایسافضل ہوا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے صحابی. اور شہداء کرام بن گئے. اُن کے بارے میں قرآن پاک فرماتا ہے کہ. ایک طرف انہوں نے فرعون کو للکارا کہ ہم ایمان لا چکے ہیں جو کرنا ہے کر لے تو اسی لمحے دوسری طرف انہوں نے. اﷲ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو کر حسن خاتمہ کی درخواست پیش کر دی. اور وہ قبول ہو گئی.قرآن پاک اُن کی دعائ بیان فرماتا ہے.

رَبَّنَآ اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّتَوَفَّنَا مُسْلِمِیْنَاے ہمارے پروردگار! ہمیں استقامت نصیب فرما اور ہمیں اسلام پر موت دے. ﴿الاعراف۶۲۱﴾لیجئے مل گئی ایک اور دعائ حسن خاتمہ کی. اس میں صبرو استقامت کی دعائ بھی ہے. اور ایمان پر خاتمے کی بھی. الفاظ بھی قرآن پاک کے ہیں. اور جنہوں نے مانگی تھی اُن کو حسن خاتمہ نصیب بھی ہوا. پس اسے بھی یاد کر لیجئے.

Leave a Comment