میری فیسبک میں ایک لڑکے سے دوستی ہو گئی بات یہاں تک آ پہنچی کہ میں روزانہ اسکا

فیسبک

میرا نام رامین ہے ، چند سال پہلے دانیال سے میری فیس بک پر دوستی ہوئی ، دانیال بڑا حسین لڑکا تھا ۔ چند روز فیس بک پر دل بہلانے کے بعد ہم نے ایک دوسرے کا واٹس ایپ نمبر لیاد پہلے تو ہم ایک دوسرے کو آڈیو کال کرتے تھے لیکن پھر ویڈیو کال پر بھی لطف اندوز ہونے لگے ۔

مجھے دانیال سے محبت ہو گئی تھی ۔ دانیال ہمارے ہی شہر میں رہتا تھا ۔ میں نے دانیال سے ملنے کی ضد کی تو وہ فورآمان گیا ۔ پھر ایک دن ہم ایک ہوٹل میں ملے دانیال میرے لئے پھولوں کا گلدستہ لایا تھا ۔ وہ میری تعریفیں کر رہا تھا اور میں اس کی دلکش آنکھیں دیکھ کر کر مسکرارہی تھی ۔ دانیال سے ملاقات کے بعد میری محبت میں مزید اضافہ ہو گیا۔ایک روز میں نے دانیال سے سوال کیا کہ اگر تمہارے سامنے دنیا کی حسین ترین لڑکی کھڑی کی جائے اور اس کے مقابلے میں مجھے کھڑا کیا جاۓ تو تم کس کا انتخاب کروگے , وہ کہنے لگامیں یقینا تمہارا ہی انتخاب کروں گا کیوں کہ میں تم سے سچی محبت کرتا ہوں ۔

میں اس محبت کو نکاح میں بدل کر پاک کرنا چاہتی تھی ۔ میں نے دانیال سے کہا کہ تم مجھ سے شادی کر لو ۔ وہ کہنے لگا پہلے تم دو سال میرے ساتھ رہو گیپھر میں تم سے شادی کر لوں گا ۔ میں نے وجہ پوچھی تو کہنے لگا میں اپنا مستقبل محفوظ بنانا چاہتا ہوں ۔ یہ سن کر میں نے دانیال کی بات مان لی ۔ چند ماہ کے بعد دانیال نے میرے ساتھ جنسی تعلق بنانے کی بات کی تو میں نے صاف انکار کر دیا ۔ پھر وہ مجھے طرح طرح کی باتیں سنانے لگا کہ تم مجھ سے محبت نہیں کرتی اگر مجھے محبت کرتی ہو تو میری بات مان جاؤ میں مجبور تھی میں نے اسے محبت کا ثبوت دینے کے لیے روزانہ اس کا بستر گرم شروع کر دیا ۔

پھر وہ مجھ سے خوشرہنے لگا ۔ اس کی خوشی میں بھی خوش تھی۔ایک دن میں بازار سے کچھ سامان خریدنے گئی تو وہاں میں نے دانیال کو ایک لڑکی کی باہوں میں بائیں ڈال کر بیٹھے دیکھا ۔ میں شدید غصے میں دانیال کے پاس گئی اور دانیال سے پوچھا کہ یہ لڑکی کون ہے ، وہ کہنے لگا بائی آپ کون ہوں میں تو آپ کو نہیں جانتا اس نے اتنا کہا اور وہاں سے اٹھ کر چلا گیا ۔ میں شدید پریشانی میں گھر آ گئی گھر پہنچتے ہی میں نے دانیال کو کال کرنا شروع کر دی ، دودن تو اس نے میری کال رسیو نہیں کی پھرجس دن اس نے کال رسیو کی تو صرف مجھے اتنا بتایا کہ وہ لڑکی میری ہونے والی بیوی ہے تم آئندہ کبھی مجھ سے رابطہ کرنے کی کوشش نہ کرنا ۔ جب مجھے حقیقت کا علم ہوا تو میں یہ صدمہ برداشت نہ کر سکی ۔

کچھ گھنٹے رونے کے بعد میں نے جان دینے کا فیصلہ کیا اور دو منزلہ عمارت سے چھلانگ لگا دی لیکن بد قسمتی سے میں بچ گئی۔اب میں چلنے پھرنے سے قاصر ہوں میری ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ چکی ہے اب میں سارا دن بستر پر پڑی رہتی ہوں۔اس کہانی سے یہ سبق ملتا ہے کہلڑکیوں کو اپنے والدین اور اپنے بھائیوں کی عزت کا خیال رکھنا چاہیے اور شادی سے پہلے کسی کے ساتھ ناجائز تعلقات نہیں بنانے چاہئیں ۔

Leave a Comment