اسم اعظم کے وسیلے سے دعا مانگنا

اسم اعظم

اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنِّي أَشْهَدُ أَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، ‏‏‏‏‏‏الْأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ ترجمہ::اے اللہ! میں تجھ سے مانگتا ہوں بایں طور کہ میں تجھے گواہ بناتا ہوں اس بات پر کہ تو ہی اللہ ہے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، تو اکیلا ( معبود ) ہے تو بے نیاز ہے، ( تو کسی کا محتاج نہیں

تیرے سب محتاج ہیں ) ، ( تو ایسا بے نیاز ہے ) جس نے نہ کسی کو جنا ہے اور نہ ہی کسی نے اسے جنا ہے، اور نہ ہی کوئی اس کا ہمسر ہوا ہے“ دعا کرتے ہوئے سنا تو فرمایا: ”قسم ہے اس رب کی جس کے قبضے میں میری جان ہے! اس شخص نے اللہ سے اس کے اس اسم اعظم کے وسیلے سے مانگا ہے کہ جب بھی اس کے ذریعہ دعا کی گئی ہے اس نے وہ دعا قبول کی ہے، اور جب بھی اس کے ذریعہ کوئی چیز مانگی گئی ہے اس نے دی ہے“۔جامع الترمذی 3475 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا اللہ اس شخص کے چہر ے کو تروتازہ رکھے جس نے میرے سے کوئی حدیث سنی اور ویسے ہی

آگے پہنچا دی۔۔ اچھی بات دوسروں کا بتانی چاہیئے یہ صدقہ جاریہ ہے

Leave a Comment