صبح اٗ ٹھتے ہی اٗنگیوں کے پوروں پر پڑھ کے کمال دیکھیں

صبح

ميں قوى ش.ہ.و.ت كا مالك ہوں اور روزانہ بيوى سے ہم بس.ترى كرنے كى رغبت ركھتا ہوں، جب بيوى سے ہم بس.ترى كا كہتا ہوں تو وہ نامعقول سے دلائل دے كر اور مختلف قسم كے بہانے بنا كر ايسا كرنے سے انكار كر ديتى ہے، مثلا اس كا كہنا حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے فرمایا: نبی اکرم ؐ پر درود پاک پڑھنا،

گ۔ن اہوں کو یوں مٹ۔ادیتا ہے ، جیسے کہ پانی آ۔۔گ کو بجھادیتا ہے اور حضور ؐ پر سلام بھیجنا اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے غلام آزاد کرنے سے افضل ہے اور رسول اکرم ؐ سے محبت کرنا۔ اللہ تعالیٰ کی راہ میں ت۔ل۔وار چلانے اور جانیں ق۔رب۔ان کرنے سے افضل ہے ۔ ام المؤ منین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کا قول ہے کہ ، مجلسوں کی زینت نبی کریم ؐ پر درود پاک پڑھنا ہے ۔ لہذا مجالس کو درود پاک سے م۔زین کرو۔سیدنا عبداللہ بن مسعود ؓنے حضرت زید بن وہب سے فرمایا کہ جب جمعہ کا دن آئے تو رسول اللہ ؐ پر ہزار مرتبہ درود پاک پڑھنا ت۔رک نہ کرو۔ حضرت حذیفہؓ کا فرمان ہے کہ درود پاک پڑھنا، درود پاک پڑھنے والے کواور اس کی اولاد کو، اور اولاد کی اولاد کو رنگ دیتا ہے ۔

حضرت عمر بن عبدالعزیز نے فرمان جاری کیا کہ جمعہ کے دن علم کی اشاعت کرو اور نبی اکرم ؐ پر درود پاک کی کثرت کرو۔ایک سائل حضرت علیؓ کے پاس آ یا اور عرض کیا کہ مجھے کچھ دیجئے ،میں ت۔نگ۔دست ہوں۔ حضرت علی ؓ کے پاس اس وقت دینے کے لیے کوئی چیز نہ تھی، آپ نے دس بار درود پڑھ کر سائل کی ہتھ۔یلی پر پ۔ھون۔ک م۔ار کر فرمایا ہتھیلی بند کر دو، سائل نے باہر جا کر جب ہتھیلی کھولی تو سونے کے دیناروں سے بھ۔ری پ۔ڑی تھی۔ اگر آپ صرف اور صرف ایک مرتبہ یہ دعا پڑھ لیں تو اللہ تعالیٰ اس دن بہترین رزق سے نواز دے گا۔ اللہ تعالیٰ اس کو ہر قسم سے رزق عطاء فرمائیں گے ۔ ب۔رائیوں سے دور رکھیں گے پ۔ریشانیوں سے نج۔ات ہوگی ۔

صرف صبح میں پڑھ لیں اگر صبح میں نہیں پڑھ پائے تو شام میں پڑھ لیں ۔ اگلے دن صبح تک اللہ تعالیٰ اس کو بہترین رزق عطاء فرمائیں گے ۔ ہر انسان پ۔ریشان ہیں کچھ رزق اور پ۔ریشانی کے حوالے یہ عمل بہت اہم ہے ۔ آج کا وظیفہ بہت خاص آپﷺ کا بتایا ہوا ایسا عمل ہے جس کو صرف اور صرف ایک مرتبہ صبح میں اور ایک مرتبہ شام میں آپ نے پڑھنا ہے اس دن کا ذمہ اللہ تعالیٰ خود لے لیتے ہیں ۔ حضرت ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جو شخص صبح میں یہ دعا پڑھ لے تو اس دن بہترین رزق سے نوازا جائیگا اور ب۔رائیوں سے محفو ظ رہیگا ۔ پ۔ریشانیوں سے نجات حاصل ہوگی

اور جوشخص شام کو پڑھ لے تو اس رات بہترین رزق سے نوازا جائیگا ۔ پ۔ریشانیوں سے ب۔رائیوں سے محفوظ رہیگا ۔ وہ کلمات ماشا ء اللہ لا حول ولا قوۃ الا باللہ اشھد ان اللہ علی کل شی ءِِ قدیرہے یہ وہ کلمات ہیں جن کو آپ نے صبح وشام ایک مرتبہ پڑھنا ہے۔ انشاء اللہ اس دن اللہ تعالیٰ ایسی کرم نوازی فرمائیں گے کہ آپ کو بے پن۔اہ رزق عطاء فرمائیں گے ۔ جو ہمارے پیارے حبیب ﷺ نے فرمادیا تو اس میں کوئی شک کی گ۔نجائش باقی نہیں رہ جاتی ہے ۔آپ کو بتاتے چلیں جب ہم کوئی عمل کرتے ہیں۔ اس کا تعلق حدیث مبارکہ یا قرآن کریم سے ہو تو جب تک اس کو یقین سے نہیں کرتے تب تک اس کا فائدہ حاصل نہیں ہوتا ہے ۔

ہے كہ وہ تھكى ہوئى ہے، يا پھر وہ غ..سل كرنے ميں سستى سے كام ليتى ہے، يا دوسرے دن كرنے كا كہ كر ٹال ديتى ہے. اس ليے ہفتہ ميں صرف دو بار ہى ہم بس.ترى ہوتى ہے، ميں صبر نہيں كر سكتا جس كى بنا پر مجھے م.ش.ت ز.نى كا سہارا لينا پڑتا ہے كہ كہيں ز.ن.اكارى ميں نہ پڑجاؤں، حالانكہ مجھے علم ہے كہ م.ش.ت. ز.ن.ى ح.رام ہے، ليكن اس كے باوجود ميں ہفتہ ميں تين بار م.ش.ت.ز.ن.ى كا مرتكب ہوتا ہوں، اور ميرى بيوى ميرے پہلو ميں ہوتى ہے، اور اسے اس كا علم ہوتا ہے. يہ علم ميں رہے كہ ميرى بيوى بناؤ سنگھار كا خوب خيال ركھتى ہے، اور خوشبو بھى لگاتى ہے، ليكن اس ميں صرف عيب يہ ہے

كہ كثرت جماع سے بھاگتى ہے، ميرا سوال يہ ہے كہ آيا ميں م.ش.ت .ز.نى كرنے سے گنہگار تو نہيں ہو رہا، اور اگر گن.اہ ہوتا ہے تو كيا ميرے م.ش.ت .ز.نى كرنے كا گ.ن.اہ ميرى بيوى كو بھى ہوتا ہے يا نہيں ؟ ۔جاری ہے ۔ الحمد للہ:اول:خاوند پر بيوى كے ساتھ حسن معاشرت اختيار كرنا واجب ہے.كيونكہ اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے: { اور ان عورتوں كے ساتھ حسن معاشرت اختيار كرو }النساء ( 19 ).اور حسن معاشرت ميں جماع بھى شامل ہے، اور يہ بقدر كفائت خاوند پر واجب ہے، جب تك خاوند كا جسم كمزور نہ پر جائے يا پھر اسے معاش سے دور اور مشغول نہ كردے. اور بيوى پر واجب ہے كہ جب خاوند اسے ہم بس.ترى كى دعوت دے تو وہ اسے قبول كرے، اور اگر وہ انكار كرتى ہے تو نافرمان شمار ہوگى؛

كيونكہ بخارى اور مسلم نے درج ذيل حديث روايت كي ہے: ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: ” جب آدمى اپنى بيوى كو اپنے بستر پر ہم بس.ترى كے ليے بلائے اور وہ انكار كر دے اور خاوند رات ناراض ہو كر بسر كرے تو صبح ہونے تك اس پر فرشتے لعنت كرتے ہيں “صحيح بخارى حديث نمبر ( 3237 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 1436 ).شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:” بيوى پر واجب ہے كہ جب خاوند اسے ہم بسترى كے ليے بلائے تو وہ اس كى اطاعت كرے، يہ اس كے ليے فرض و واجب ہے…. اس ليے جب بيوى اس كى بات ماننے سے انكار كر دے تو وہ نافرمان اور بددماغ شمار ہوگى جيسا كہ اللہ عزوجل كا فرمان ہے:{ اور جن عورتوں كى تمہيں بددماغى اور نافرمانى كا ڈر ہے

تو انہيں تم نصيحت كرو، اور انہيں بستر ميں چھوڑ دو اور انہيں مار كى سزا دو، اور اگر وہ تمہارى اطاعت كر ليں تو پھر ان پر كوئى راہ تلاش مت كرو }. انتہىديكھيں: الفتاوى الكبرى ( 3 / 145 – 146 ).ليكن خاوند كے ليے جائز نہيں كہ وہ بيوى پر جماع كا اتنا بوجھ ڈالے جسے وہ برداشت ہى نہ كر سكے، اور اگر بيوى بيمارى يا پھر برداشت نہ كرنے كى بنا پر جماع سے انكار كرتى ہے تو وہ گ.ن.ہ.گ.ار نہي ہوگى. ابن حزم رحمہ اللہ كہتے ہيں:لونڈى اور بيوى پر فرض ہے كہ جب اس كا مالك اور خاوند اسے ہم بس.ترى كى دعوت دے تو وہ اس سے انكار مت كرے،

Leave a Comment