”قرآن پاک کی وہ عظیم آیت جس کا پڑھنے والا مرتے ہی سیدھا جنت میں چلا جائے گا“

سیدھا جنت

“آیۃ الکرسی” قرآن کریم کی تمام آیات سے عظیم آیت ہے، صحیح احادیث میں اسکی بڑی فضیلت ثابت ہے، یہ اللہ کی صفات جلال ، اللہ تعالیٰ کی شان اور اس کی قدرت اور عظمت پر مبنی نہایت جامع آیت ہے،حضرت سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم نے ان سے پوچھا؛ “اے ابو منذر! کیا تم جانتے ہو کہ تمھارے پاس کتاب اللہ کی سب سے

زیادہ عظمت والی آیت کونسی ہے؟” آپ رضی اللہ فرماتے ہیں میں نے جواب دیا کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم ہی زیادہ جانتے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم نے (دوبارہ) پوچھا:’’اے ابو منذر! کیا تم جانتے ہو کہ تمھارے پاس کتاب اللہ کی سب سے زیادہ عظمت والی آیۃ کون سی ہے ۔ ؟‘‘میں نے کہا : “اللہ لااله الاهو الحي القيوم (یعنی کہ آیۃ الکرسی)” تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم نے میرے سینے پر ہاتھ مارا، اور فرمایا جس کا مفہوم یہ ہے کہ “اللہ کی قسم! ( درست کہا) اے ابو منذر! تمہیں علم مبارک ہو۔”(صحیح مسلم،کتاب الصلوۃ ) سیدنا حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کو فرماتے ہوئے سنا جس کا مفہوم یہ ہے کہ؛ “جو شخص ہر فرض

نماز کے بعد آیۃ الکرسی پڑھے گا، اسے جنت میں داخل ہونے سے سوائے م وت کے کوئی چیز نہیں روکتی۔” مطلب یہ ہے کہ آیۃ الکرسی پڑھنے والا م وت کے بعد سیدھا جنت میں جائے گا۔ (عمل الیوم واللیلۃ للنسائی:100 إذا أويتَ إلى فراشِكَ ، فاقرأ آيةَ الكرسي ، فإنه لن يزالَ معكَ ، من اللّه تعالى حافظ ، ولا يقربَك شيطانٌ ، حتى تُصْبِحَ”(بخاری) ترجمہ یہ ہے؛ بخاری شریف میں ہے کہ جب تم بستر پہ آؤ اور آیت الکرسی پڑھو تو اللہ پاک کی طرف سے ایک محافظ (فرشتہ) مقرر کر دیا جاتا ہے اور صبح تک شیطان تمہارے پاس بھی نہیں آسکتا۔

Leave a Comment