زانیہ اور بد کار عورتوں کی نشانیاں۔

زانیہ اور بد کار

کائنات نیوز!  آپ ﷺ نے مسلمانوں کو یہ بات سمجھائی ۔لوگوں میں نے اس سے بڑھ فتنہ کوئی نہیں چھوڑا جو کہ عورتوں کا فتنہ ہے اسی لیے اس فتنے سے بچ کر رہنا۔اور یہ فتنا اختلاف کی وجہ سے ہی ہوسکتا ہے ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ۔یہ دنیا انسان کو بہت بھاتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ تمہیں دیکھ رہا کہ تم کیسی زندگی گزارتے ہو۔عورتوں کے فتنے سے بچ جانا اور دنیا میں دھت نہ ہوجانا ۔عورتوں کا فتنہ سب سے پہلے بنی اسرائیل میں آیا۔

ایک جسم فر و ش تھے۔اور ایک اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے پابند نہیں بناتے ہیں رسول اللہﷺ فرماتے ہیں ۔بنی اسرائیل کی حالت یہ تھی جس کو آج مسلمان بھی اختیار کرتے وقت ڈرتی نہیں جس کا قد تو چھوٹا تھا ۔لیکن وہ دو لمبے قد والی عورتوں کے درمیان چلا کرتی تھی ۔ اس کے دل میں اللہ تعالیٰ کا خوف نہیں تھا۔ بلکہ اپنے آپ کو پیش کرنا تھا ۔ اس نے ان دو عورتوں کے برابر ہونے کیلئے لکڑی کی جوتی بنوائی اس کے برابر ہونے کیلئے ایڑیاں بنوائیں ۔ ایک سونے کی انگوٹھی لی اس میں مٹی کو لیپ کیا ۔اور اس میں قسطوری ڈالی ۔ ایک وقت تھا ان دو عورتوں کی تو شان تھے ۔ ان لوگوں کے ہاں جو اللہ تعالیٰ کے ہاں نافرمان تھے ۔ اسکو کوئی جانتا نہیں تھا جب اس نے وہ لمبی ایڑی والی جوتی لے کر ان کے برابر اپنا قد کرلیا تو جب بازاروں

سے گزرتی اپنی انگوٹھی کو بھی حرکت دیتی تاکہ خوشبو پہنچے لوگوں کو اور اس قد بھی اونچا ہوچکا تھا۔ بنی اسرائیل نے اس کا نام فتنہ رکھ دیا ہے ۔ آج کی عورتیں بھی اس اختلاف سے بچتی نہیں ۔اور ایڑیاں پہننے میں آڑ محسوس نہیں کرتی ۔ ڈیزائن سمجھتی ہیں اور خوشبو لگا کر بازاروں میں نکلنا کچھ نہیں سمجھتی ۔ جبکہ آپﷺ نے فرمایا جو عورت خوشبو لگاتی ہے ۔ کسی قوم کے پاس سے گزرتی ہے اور قو م کو اسکی خوشبو پہنچ جاتی ہے تو یہ بدکار عورت کی نشانی ہے ۔ شکریہ۔جو کسی بہت اپنے نے خود سے زیادہ آپ پر کیا ہو۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ (رات میں ) بیدار ہوئے اور فرمایا: سبحان اللہ ! کس طرح رحمت کے خزانے نازل کئے گئے ہیں اور کس طر ح فتنے نازل کئے گئے ہیں ۔

کون ہے جوان حجرہ والیوں کو جگائے ۔ آنحضور ﷺ کی مراد ازوج مطہران سے تھی، تاکہ وہ نماز پڑھ لیں۔ کیونکہ بہت سی دنیا میں کپڑے پہننے والیاں آخرت میں ن نگی ہوں گی او ر اب ابی ثور نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا۔ آنحضور ﷺ نے ازواج مطہرات کو طلاق دے دی ہے ؟ آنحضور ﷺ نے کہا کہ نہیں ۔ میں نے کہا اللہ اکبر!(صیحح بخاری )۔ اگر تم تنہاء ہو اور وقت کے دل شکن لمحات تمہارے دل کے محسوسات کو پامال کررہے ہیں تو کیا ہوا؟ تم اس دنیا میں اکیلے آئے تھے ، اکیلے ہی جاؤ گے ۔ جب قدرت نے تمہیں اکیلا ہی تخلیق کیا ہے تو پھر تنہائی سے کیوں گھبراتے ہو۔ اک تیرے کن کے یقین پر میں نے مانگی ہیں بہت دعائیں یا رب۔ کسی سے اپنا موازنہ مت کریں ، کم پہن لیں، سستا پہن لیں، سادہ کھائیں لیکن

حلال کھائیں۔کم میں نہیں حر ام میں شرم کریں۔ ہم نے اللہ کو حساب دینا ہے لوگوں کو نہیں ۔ ان لوگوں پرزیادہ توجہ دو جو تالیاں نہیں مارتے جب تم جیتتے ہو۔ جب ہم اپنی پسند کی اشیاء سے محروم ہوں تو موجودہ اشیاء ہی کو پسند کر لینا چاہیے۔ دنیا کی ساری چیزیں ٹھوکر لگنے سے ٹوٹ جاتی ہیں مگر صرف انسان وہ چیز ہ جو ٹھوکر لگنے کے بعد بنتا ہے۔ سماج میں مسلمان ہونا آسان ہے لیکن تنہائی کا مسلمان ہونا مشکل ہوتاہے۔ اگر تم نے ہر حال میں خوش رہنے کا فن سیکھ لیاتو یقیناً تم نے دنیا کا سب سے بڑا فن سیکھ لیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:انسان مال جمع کرتا ہے، اس کے بینک بھرے رہتے ہیں اور دل خالی رہتا ہے ۔ زندگی میں دو اصول بنالیں دشمن بھی سلام کریں گے ایک اپنی ذات کی قدر کبھی کسی بھی حال

میں کم نہ ہونے دیں۔ اور دوسروں کی عزت کا خیال ہر صورت رکھیں۔ کسی کو پانے کے لیے ہماری تمام خوبیاں بھی کم پڑ جاتی ہیں۔ اور کھونے کےلیے ایک غلط فہمی ہی کافی ہے۔ تقریباً اٹھارہ ہزار مخلوقات میں سے صرف انسان ہی پیسہ کماتا ہے کوئی مخلوق کبھی بھوکی نہیں رہتی اور انسان کا کبھی پیٹ نہیں بھرتا۔ صرف ایک شخص ہی تمہیں کامیاب کرسکتا ہے اور وہ ہو تم خود۔ آپ کی محنت سے اگر کسی کو کوئی فائدہ ہورہا ہے لو پھر بہت اچھی بات ہے لیکن اگر کسی کو کوئی فائدہ نہیں ہورہا تو پھر اس محنت سے پیچھے ہٹ جائیے۔ چھین کرکھانے والوں کا پیٹ کبھی نہیں بھرتا اوربانٹ کر کھانے والے کبھی بھوکے نہیں رہتے۔

Leave a Comment