جس عورت میں ہیہ نشانی و وہ جلد چھوڑ جاتی ہے

عورت

اگر کوئی مرد ناجائز تعلقات رکھے تو چالاک اور ہوشیار لیکن عورتیں عمل کرے تو فاحشہ اور بدچلن کردار عورت کو پوری طرح عیاں نہیں ہونا چاہیے کچھ تجسس باقی رہنا چاہیے جو اس کی جانب رغبت کو جوان رکھیں گا ورنہ سب آیا ہوا تو راستے جدا زنا پہلے عقل کو پھر نسل کو بگاڑ دیتی ہے اللہ ہمیں ایسے گناہوں سے محفوظ رکھے گرل فرینڈ تو کمزور لوگوں کی ہوتی کے مرد تو نکاح کرتے ہیں

شادی سے پہلے والے تعلق اگر شادی کے بعد بھی دونوں خاندان برقراررکھے تو کبھی کوئی مسئلہ پیدا ہی نہ ہو زیادہ کی طلب انسان کو ناقدری بنا دیتی ہے کسی کے لیے ہر وقت اویلیبل رہیں گے تو لوگ اچھا نہیں بلکہ فالتو سمجھنے لگیں گے سب انسانوں سے آپ کی محبت ختم ہو جائے تو پھر چیزوں سے محبت ہونا شروع ہوجاتی ہے مختصر یہ کہ جب اپنا سکون کسی اور کے ہاتھوں میں ہو تو اس بے سکونی سے بڑھ کر کوئی دکھ نہیں وہ بھی تب جب کسی کا سکون ایک نا محرم کی صورت میں ہو یہ دو نشانیاں ہیں جس عورت میں ہو وہ چھوڑ جاتی بے جو اکثر بات نہ مانے قدر اور نہ کرے اور رابطے میں نہ رہےسب کو دلاسا دینے والا شخص اکثر اپنے دکھوں میں اکیلا ہوتا ہے جس طرح انسان رزق پر عشق ہوتا ہے

ٹھیک اسی طرح رزق بھی انسان پر عاشق ہوتا ہے جس انسان کو غصہ زیادہ آتا ہے وہ انسان پیار بھی اتنا ہی زیادہ کرتا ہے۔ اور اتنا ہی صاف دل رکھتا ہے۔ جب تمہارے دل میں کسی کے لیے نفرت پیدا ہونے لگے توفوراً اس کی اچھائی کو یاد کرو۔ جب تم دنیا کی مفلسی سے تنگ آجاؤ اور رزق کا کوئی رستہ نہ نکلے ، تو صدقہ دے کر اللہ سے نجات کرو۔ زندگی میں چاہے کتنی بھی خوشیاں ہو ہمارے پاس لیکن ہم تب تک خوش نہیں ہوسکتے جب تک ہمارے ساتھ وہ نہیں جس کے ساتھ ہم خوش ہونا چاہتے ہیں۔ اچھا دوست برے وقت کو بھی اچھا بنا دیتا ہے۔ رشتوں کی خوبصورتی ایک دوسرے کی بات کو برداشت کرنا ہے، بے عیب انسان تلاش مت کرو، ورنہ اکیلے رہ جاؤ گے۔ جب انسان کی عقل مکمل ہوجاتی ہے تو

ا س کی گفتگو مختصر ہوجاتی ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کسی شخص نے پوچھا میں بہت کوشش کرتا ہوں کہ صبح نماز پڑھوں مگر اٹھا نہیں جاتا؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ نیند کی وجہ نہیں بلکہ تم جو سارے دن میں، جو گن ہ ا کرتے ہووہ تمہارے گردن میں توک، ہاتھو ں میں ہتھکڑی اور پاؤں میں بیڑیاں باندھ کر تمہیں ااٹھنے نہیں دیتے۔ایمان اور حیاء دو ایسے پرندے ہیں کہ اگر ان میں سے ایک اڑ جائے تو دوسرا خود ہی اڑ جاتا ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس شخص کی دوستی پراعتبار نہ کر جو اپنے اقرارکو پورا نہ کرتا ہو۔ یہ دنیا ایک مقررہ وقت تک رہے گی اور آخرت ہمیشہ تک۔ معاف کرنا سب سے زیادہ اسے زیب دیتا ہے جوسزا دینے پر قاد ر ہو۔

جس کی امیدیں اللہ کے ساتھ ہوں وہ کبھی ناکام نہیں ہوتا، ناکام وہ ہوتا ہے جس کی امیدیں دنیا والوں سے وابستہ ہوں ۔ اچھا دوست ہاتھ اور آنکھ کی طرح ہوتا ہے جب ہاتھ کودرد ہوتا ہے تو آنکھ روتی ہے اور جب آنکھ روتی ہے تو ہاتھ آنسو صاف کرتا ہے۔اخلاق وہ چیز ہے جس کی قیمت کچھ نہیں دینا پڑتی مگر اس سے ہر چیز خریدی جاسکتی ہے۔ جو حق کو چھوڑ کر عزت کا طلب گار ہوتا ہے اور ذلیل ہوکررہتا ہے اور جو حق کے ساتھ دشمنی رکھتا ہے ذلت اس کا ہمیشہ کے لیے مقدر بن جاتی ہے۔ ہتھیاروں سے جنگ تو جیتی جاسکتی ہے مگر دل نہیں دل تو کردار سے جیتے جاتے ہیں۔کائنات کی سب سے مہنگی چیز احساس ہے جو دنیا کے ہرانسان کے پاس نہیں ہوتی۔ عادت پر غالب آنا، کمال فضیلت ہے۔

عقل مند کی عادت ہے کہ وہ ضرورت یا دلیل کے بغیر بات نہیں کرتا۔ بارش کا قطرہ سیپی او ر سانپ دونوں پرگرتا ہے جب کہ سانپ اسے زہر دیتا ہے ۔ اور سیپی اسے موتی۔ جس کا جیسا ظرف ویسی اس کی تخلیق۔ برے ساتھی سے تنہائی اچھی ہے۔

Leave a Comment