قرآن پاک کی ایسی سورت جسے پڑھنے سے رزق میں اتنا اضافہ ہوگاکہ اسکی کی برکت سے ہمسائے بھی غنی ہوجائیں گے

ڈیلی نیوز! قرآن شریف کی ہر سورہ مبارکہ حکمت اور نجات سے لبریز ہے۔ یہاں آج ہم سورہ انفال کے روحانی فوائد پیش کرنے جا رہے ہیں۔ الانفال کا معنی قدرتی ذخائر یا قدرتی مال کا طور پر بھی لیا جاتا ہے لیکن یہ سورہ غزوہ بدر کے موقع پر نازل ہوئی جس کی وجہ سے اسے سورہ بدر بھی کہا جاتا ہے اوراسی وجہ سےسورۃ الانفال کا مطلب مال غنیمت کےطور پر لیا جاتا ہے۔ سورۃ الانفال کےپڑھنے والا ہمیشہ کامیاب رہتا ہے

اسے عزت کے ساتھ دشمنوں پر ہیبت حاصل ہوتی ہے۔ سورۃالانفال بے گناہ قید میں کئے گئے قیدی کی رہائی کا ذریعہ ، سورۃالانفال لکھ کر موم جامہ میں ڈال کر اگر بازو پر باندھ کرظالم حاکم کے سامنے یا عدالت میں جائے تو کامیابی حاصل ہو۔ کسی شخص کو پتھری ہو تو سورۃ الانفال پڑھ کر دم کرے اورعرق گلاب و زعفران سے لکھ کر آب نیساں میں گھول کر پلائی جائے توپتھری خارج ہوجائے ۔ امتحان میں کامیابی کیلئے سورۃ الانفال روزانہ پڑھی جائے اور عرق گلاب و زعفران سے لکھ کر پانی میں گھول کرپی جائے تو امتحان میں کامیابی نصیب ہوگی ۔کھیتوں کو نقصان سے بچانے کیلئے سورۃ الانفال عرق و زعفران سے لکھ کر پانی میں گھول کر وہ پانی کھیتوں میں چھڑکا جائے توفصل کا نقصان نہ ہوگا۔عورت کے عادی کو روکنے کیلئے سورۃ الانفال 41دفعہ پڑھ کر کسی

میٹھی چیز پر دم کرکےکسی طریقہ سے اسے پلایا کھلا دی جائے اور اگر یہ ممکن نہ ہو سکے تو ایسی جگہ پر پانی چھڑک دیا جائے جہاں سے وہ عموماً گزرتا ہوتو اس برے کام سے اس کا دل بھر جائے گا اور نیک ہو جائے گا۔ تنگی رزق کا شکار افراد تلاو کریں اور لکھ کر پاس رکھ لیں تو تنگی رزق سے نجات مل جائے گی۔میرے پاس ایک طالبعلم لڑکی آئی اور پوچھا:طالبہ : کیا قران پاک میں کوئی ایک بھی ایسی آیت ہے جو عورت پر حجاب کی فرضیت یا پابندی ثابت کرتی ہو؟ڈاکٹر جاسم : پہلے اپنا تعارف تو کراؤطالبہ : میں یونیورسٹی میں آخری سال کی ایک طالبہ ہوں، اور میرے بہترین علم کے مطابق اللہ تبارک و تعالیٰ نے عورت کو حجاب کا ہرگز حکم نہیں دیا،اس لیئے میں بے پردہ رہتی ہوں، تاہم میں اپنے اصل سے بالکل جڑی ہوئی ہوں

اور اس بات پر اللہ پاک کا بہت بہت شکر ادا کرتی ہوں۔ڈاکٹر جاسم : اچھا تو مجھے چند ایک سوال پوچھنے دوطالبہ : جی بالکلڈاکٹر جاسم : اگر تمہارے سامنے ایک ہی مطلب والا لفظ تین مختلف طریقوں سے پیش کیا جائے تو تم کیا مطلب اخذ کرو گی؟طالبہ: میں کچھ سمجھی نہیں۔ڈاکٹر جاسم : اگر میں تمہیں کہوں کہ مجھے اپنا یونیورسٹی گریجوایشن کی ڈگری دکھاؤ۔آپ نے پھر کہا: یا میں تمہیں یوں کہوں کہ اپنی یونیورسٹی گریجوایشن کا رزلٹ کارڈ دکھاؤ۔آپ نے پھر کہا: یا پھر میں تمہیں یوں کہوں کہ اپنی یونیورسٹی گریجوایشن کی فائنل رپورٹ دکھاؤ- تو تم کیا نتیجہ اخذ کرو گی؟طالبہ: میں ان تینوں باتوں سے یہی سمجونگی کہ آپ میرا رزلٹ دیکھنا چاہتے ہیں۔اور ان تینوں باتوں میں کوئی بھی تو ایسی بات پوشیدہ نہیں ہے جو مجھے کسی شک میں ڈالے کیونکہ

ڈگری، رزلٹ کارڈ یا فائنل تعلیمی رپورٹ سب ایک ہی بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ آپ میرا رزلٹ دیکھنا چاہتے ہیں۔ڈاکٹر جاسم : بس، میرا یہی مطلب تھا جو تم نے سمجھ لیا ہے۔طالبہ:لیکن آپ کی اس منطق کا میرے حجاب کے سوال سے کیا تعلق ہے؟ڈاکٹر جاسم : اللہ تبارک و تعالیٰ نے بھی قرآن مجید میں تین ایسے استعارے استعمال کیئے ہیں جو عورت کے حجاب پر دلالت کرتے ہیں۔طالبہ: (حیرت سے) وہ کیا ہیں اور کس طرح؟ڈاکٹر جاسم : اللہ تبارک و تعالی نے پردہ دار عورت کی جو صفات بیان کی ہیں انہیں تین تشبیہات یا استعاروں (الحجاب – الجلباب – الخمار) سے بیان فرمایا ہے جن کا مطلب بس ایک ہی بنتا ہے۔ تم ان تین تشبیہات سے کیا سمجھو گی پھر؟طالبہ : خاموشڈاکٹر جاسم : یہ ایسا موضوع ہے جس پر اختلاف رائے تو بنتا ہی نہیں

بالکل ایسے ہی جیسے تم ڈگری، رزلٹ کارڈ یا فائنل تعلیمی رپورٹ سے ایک ہی بات سمجھی ہو۔طالبہ: مجھے آپ کا سمجھانے کا انداز بہت بھلا لگ رہا ہے مگر بات مزید وضاحت طلب ہے۔ڈاکٹر جاسم : پردہ دار عورتوں کی پہلی صفت (اور اپنے سینوں پر اپنی اوڑھنیوں کے آنچل ڈالے رہیں –وليضربن بخمرهن على جيوبهن)باری تعالیٰ نے پردہ دار عورتوں کی جو دوسری صفت بیان فرمائی ہے وہ یہ ہے کہ (اے نبیؐ، اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور اہل ایمان کی عورتوں سے کہہ دو کہ اپنے اوپر اپنی چادروں کے پلو لٹکا لیا کریں –یايها النبي قل لأزواجك وبناتك ونساء المؤمنين يدنين عليهن من جلابيبهن)اللہ تبارک و تعالیٰ نے پردہ دار عورتوں کی جو تیسری صفت بیان فرمائی ہے وہ یہ ہے کہ (گر تمہیں کچھ مانگنا ہو تو پردے کے پیچھے سے مانگا کرو –

وإذا سألتموهن متاعا فأسالوهن من وراء حجاب}ڈاکٹر جاسم : کیا ابھی بھی تمہارے خیال میں یہ تین تشبیہات عورت کے پردہ کی طرف اشارہ نہیں کر رہیں؟طالبہ: مجھے آپ کی باتوں سے صدمہ پہنچ رہا ہے۔ڈاکٹر جاسم : ٹھہرو، مجھے ان تین تشبیہات کی عربی گرائمر سے وضاحت کرنے دو۔عربی گرایمر مین “الخمار” اس اوڑھنی کو کہتے ہیں جس سے عورت اپنا سر ڈھانپتی ہے، تاہم یہ اتنا بڑا ہو جو سینے کو ڈھانپتا ہوا گھٹنوں تک جاتا ہو۔اور “الجلباب” ایسی کھلی قمیص کو کہتے ہیں جس پر سر ڈھاپنے والا حصہ مُڑھا ہوا اور اس کے بازو بھی بنے ہوئے ہوں۔ فی زمانہ اس کی بہترین مثال مراکشی عورتوں کی قمیص ہے جس پر ھُڈ بھی بنا ہوا ہوتا ہے۔تاہم “حجاب” کا مطلب تو وییسے ہی پردہ ہی بنتا ہے۔

طالبہ: جی میں سمجھ رہی ہوں کہ مجھے پردہ کرنبا ہی پڑے گا۔ڈاکٹر جاسم : ہاں، اگر تیرے دل میں اللہ اور اس کے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ہے تو۔اور ایک اور بات جان لے کہ:لباس دو قسم کے ہوتے ہیں:پہلا جو جسم کو ڈھانپتا ہے۔ یہ والا تو فرض ہے اور اللہ اور اس کے رسول کا حکم ہے۔دوسرا وہ جو روح اور دل کو کو بھی ڈھانپتا ہے۔ یہ دوسرے والا لباس پہلے سے زیادہ بہتر ہے، جیسا کہ اللہ تبارک وتعالی کا ارشاد مبارک ہے کہ : ً(اور بہترین لباس تقویٰ کا لباس ہے – ولباس التقوى ذلك خير)۔ہو سکتا ہے کہ ایک عورت نے ایسا لباس تو پہن رکھا ہو جس سے اس کا جسم ڈھکا ہوا ہولیکن اس نے تقویٰ کا لباس نا اوڑھ رکھا ہو۔ تو ٹھیک طریقہ یہی ہے کہ وہ دونوں لباس زیب تن کرے

Leave a Comment

error: Content is protected !!