جب نکاح کی عمر ہوتی ہے تو بڑی پریشانی یہی ہوتی ہے کہ نکاح کہاں کیا جائے

نکاح

جلدی شادی کا وظیفہ جب نکاح کی عمر ہوتی ہے تو بڑی پریشانی یہی ہوتی ہے کہ نکاح کہاں کیا جائے ۔ ہمارے معاشرے میں عام طور پر برادری اور خاندان کو ترجیح دی جاتی ہے اور جہاں تک ذات پات کا تعلق ہے اللہ پاک فرماتے ہیں ہم نے تمھیں قبیلوں اور خاندانوں میں بنایا تاکہ تم ایک دوسرے کی پہچان

کر سکو ۔ اسلام میں یہ چیزیں پہچان کے لیے تو ہیں لیکن اس سے کوئی بڑا چھوٹا نہیں ہوتا۔ اللہ پاک کے ہاں اگر کسی کو برتری حاصل ہے تو وہ صرف تقوی کی بنیاد پہ ہے ۔ رشتہ دیکھنے میں حسب نصب کے بعد مال کو تر جیح دی جاتی ہے تو ایسے رشتے میں برکت نہیں ہو سکتی ۔ آپﷺ نے فرمایا عورت سے شادی صرف چار چیزوں کی بنیاد پر کی جاتی ہے اس کا حسب نصب،مال، حسن، اس کا خاندان لیکن تم دین والی کو اختیار کرو ۔ حسن کو کبھی دین پر ترجیح نہیں دینی چاہیئے۔ جب حضرت موسیٰ رشتہ دیکھنے گئے اور ان کے پاس گھر تک نہ تھا تب آپ نے دعا فرمائی رب انی لما انزلت الی من خیر فقیر اے میرے رب! جو نعمت

تو مجھ پر اتاردے میں اس کا محتاج ہوں تو یہ دعا ہر وہ شخص پڑھ سکتا ہے جو رشتے کے لیے پریشان ہو یا والدین بھی اپنی اولاد کے لیے پڑھ سکتے ہیں ۔ اللہ نے اس دعا کے پڑھنے پر حضرت موسیٰ کو 24 گھنٹوں میں گھر کھانا اور رشتہ دیا۔

Leave a Comment