جب ایک انگریز پروفیسر نے قائد اعظم ؒکو سور کہا تو قائد نے کیا جواب دیا

قائد اعظم ؒ

اردو نیوز!  قائد اعظم جب لندن یو نیورسٹی میں تعلیم حاصل کر رہے تھے تو ایک انگر یز پروفیسر پیٹر اُن سے شدید نفرت کر تے تھے۔ ایک دن پروفیسر ڈائننگ روم میں لنچ کر رہے تھے تو جناح بھی اپنی ٹرے لے کر اسی ٹیبل پر بیٹھ گئے۔ پروفیسر کو اچھا نہیں لگا اور اس نے جناح کو کہا ۔آ پ کو نہیں پتہ کہ پرندہ اور سوہر ساتھ بیٹھ کر نہیں کھا سکتے جناح نے پر اطمینان لہجے میں جواب دیا کہ آپ پریشان نہ ہوں

میں اُٹھ کر کسی دوسری میز پر چلا جا تا ہوں۔جناح کے اس جواب پر پروفیسر کو بہت غصہ آ یا کیونکہ جناح نے خود کو پرندہ اور اس کو سوہر کہہ دیا تھا۔ اس نے انتقام لینے کا فیصلہ کر لیا اگلے ہی دن پر و فیسر نے جناح سے سوال کیا کہ اگر تم کو راستے میں دو بیگ ملیں ایک میں دولت ہو اور دوسرے میں دا نا ئی ہو تو تم کس کو اُٹھا ؤ گے ؟ جناح نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے جواب دیا دولت کو جناح کے اس جواب پر پر و فیسر پر طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا کہ میں تمہاری جگہ ہو تا تو دا نائی والے بیگ کو اُٹھا تا جناح نے جواب دیا کہ ہر انسان وہی چیز چاہتا ہے جو اس کے پاس نہیں ہو تی۔ یعنی جناح نے پر و فیسر کو بے وقوف قرار دے دیا تھا۔ پر وفیسر ان کے اس جواب پر حیران و پریشان رہ گیااور پھر کبھی ان کو تنگ نہیں کیا ۔ ايک معروف مورخ اور مصنف نے لکھا ہے کہ”دنيا ميں چند ہی لوگ ايسے ہيں جنہوں نے تاريخ کا رخ موڑا ہے اور صرف چند ہی لوگ ايسے ہيں

جو دنيا کے نقشے ميں تبديليوں کا موجب بنےاور بمشکل ہی کوئی ايسا ہے جس کو ايک قومی رياست کے قيام کا کريڈٹ ديا جاسکتا ہے۔ ليکن قائداعظم محمد علی جناحؒ ايسے شخص تھے جنہوں نے يہ تينوں کام کيےتحريک پاکستان کا بغور مطالعہ کرنے والوں کی يہ سوچی سمجھی رائے ہے کہ محمد علی جناح کے بغير پاکستان کا قيام ممکن نہيں تھا۔ ہمارا قائد وہ عظيم ليڈر کہ جسے بستر مرگ پر بھی اپنے مشن کی تکميل کی فکر ہوتی تھی۔بابائے قوم نے اپنی جان ليوا بيماری کو ہندوؤں اور انگريزوں سے چھپا کے رکھا کيونکہ انکی اس بيماری کی خبر کی ذرا بھی انہيں بھنک پڑ جاتی تو پاکستان کا قيام کھٹائی ميں پڑ جاتا۔ يہی وجہ ہے کہ قائداعظم محمد علی جناح کے اس راز کو بيسويں صدی کا بہترين سياسی راز کہا جاتا ہے ۔پاکستان کا خواب ديکھنے والے علامہ محمد اقبال سے جب يہ دريافت کیا گيا کہ وہ محمد علی جناح کی قيادت پر کيوں اصرار کرتے ہيں

تو انہوں نے ايک ايسا جواب ديا جو سچائی اور حقيقت پر مبنی تھا۔ علامہ اقبال نے فرمايا کہ جناح وہ شخص ہے جسے نہ تو خريدا جا سکتا ہےاور نہ ہی يہ شخص اپنی قوم سے خيانت کرے گا۔ علامہ اقبال جانتے تھے کہ قائداعظم ذہانت کے جس درجے پر فائز ہيں پورے برصغير ميں وہی ايک ليڈر ہيں جو گانگريس کے عيار اور چالاک گاندھی کامقابلہ کر سکيں۔يہ قائد اعظم کی ذہانت کے بارے ميں ايک عظيم مفکر اور فلسفی شاعر کی گواہی تھی

Leave a Comment